ملفوظات (جلد 4) — Page 56
ہوئے ہوئے ہیں۔اس وقت تک کہ خد انے ان کو کمزور کر رکھا ہے گناہ کی جرأت نہیں کرتے مگر جب ذرا کمزوری دفع ہوئی اور گناہ کا موقع ملا تو جھٹ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔آج اس زمانہ میں ہر ایک جگہ تلاش کر لو تو یہی پتا ملے گا کہ گویا سچا تقویٰ بالکل اٹھ گیا ہوا ہے اور سچا ایمان بالکل نہیں ہے۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور ہے کہ ان کا (سچا تقویٰ اور ایمان ) تخم ہرگز ضائع نہ کرے۔جب دیکھتا ہے کہ اب فصل بالکل تباہ ہونے پر آئی ہے تو اور فصل پید اکر دیتا ہے۔وہی تازہ بتازہ قرآن موجود ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کہا تھا اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر: ۱۰) بہت سا حصہ احادیث کا بھی موجود ہے اور برکات بھی ہیں مگر دلوں میں ایمان اور عملی حالت بالکل نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے اسی لئے مبعوث کیا ہے کہ یہ باتیں پھر پیدا ہوں۔خدا نے جب دیکھا کہ میدان خالی ہے تو اس کے الوہیت کے تقاضا نے ہرگز پسند نہ کیا کہ یہ میدان خالی رہے اور لوگ ایسے ہی دور رہیں اس لئے اب ان کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ ایک نئی قوم زندوں کی پیدا کرنا چاہتا ہے اور اسی لئے ہماری تبلیغ ہے کہ تقویٰ کی زندگی حاصل ہو جاوے۔صرف ترکِ شر کافی نہیں آدمی کئی قسم کے ہیں بعض ایسے کہ بدی کرکے پھر اس پر فخر کرتے ہیں۔بھلا یہ کون سی صفت ہے کہ جس کے اوپر ناز کیا جاوے۔شر سے اس طرح پرہیز کرنا نیکی میں داخل نہیں ہے اور نہ اس کا نام حقیقی نیکی ہے کیونکہ اس طرح تو جانور بھی سیکھ سکتے ہیں۔میاں حسین بیگ تاجر ایک شخص تھا اس کے پاس ایک کتّا تھا وہ اسے کہہ جاتا کہ روٹی کو دیکھتا رہ تو وہ روٹی کی حفاظت کرتا۔اسی طرح ایک بلّی کو سنا ہے کہ اسے بھی ایسے ہی سکھایا ہوا تھا۔جب بعض لوگوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے امتحان کرنا چاہا۔اور ایک کوٹھڑی کے اندر حلوہ، دودھ اور گوشت وغیرہ ایسی چیزیں رکھ کر جس پر بلّی کو ضرور لالچ آوے اس بلّی کو وہاں چھوڑ کر دروازہ کو بند کر دیا کہ دیکھیں اب وہ ان اشیاء میں سے کھاتی ہے کہ نہیں۔پھر جب ایک دو دن بعد کھول کر دیکھا تو ہر ایک شَے اسی طرح پڑی تھی اور بلّی مَری ہوئی تھی اور اس نے کسی شَے کو ہلایا تک بھی نہ تھا۔اس لئے اب شرم کرنی چاہیے کہ انہوں نے حیوان ہو کر انسان کا حکم ایسا مانا اور یہ انسان