ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 55

سلسلہ کی تصنیفات تصنیفات کے ذکر پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ ہمارے مخالف ہزاروں ہی ہیں اور ان کے مقابل میں ہماری جماعت بہت قلیل ہے۔مگر ہماری طرف سے جس قدر تازہ بتازہ کتابیں کثرت سے نکل رہی ہیں۔ان کی طرف سے معدودے چند بھی نہیں نکلتیں اور کوئی نکلتی بھی ہے تو اس میں گالیاں ہی ہوتی ہیں جو ان کے لئے شرم کی جگہ ہے۔یہود اور نصاریٰ کی افراط اور تفریط یہود اور عیسائیوں کی نسبت فرمایا کہ ان دونوں کی ضدیں ہیں۔ایک نے بڑھا دیا ہے ایک نے گھٹا دیا ہے۔ان کی مثال رافضیوں اور خارجیوں سے خوب ملتی ہے۔جیسے یہودی کے آگے عیسائی نہیں ٹھہرتے ایسے ہی خارجی کے آگے رافضی نہیں ٹھہرتا۔۱ ۸؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز پنجشنبہ جماعت کے لئے ضروری نصائح نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد جناب شیخ نور احمد صاحب پلیڈر ایبٹ آباد اور سید عابد علی شاہ صاحب بدوملہی اور ایک اور صاحب نے بیعت کی۔بعد بیعت کے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اس پُر آشوب زمانہ میں جب کہ ہر طرف ضلالت، غفلت اور گمراہی کی ہوا چل رہی ہے وہ تقویٰ اختیار کریں۔دنیا کا یہ حال ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے احکام کی عظمت نہیں ہے۔حقوق اور وصایا کی پروا نہیں ہے۔دنیا اور اس کے کاموں میں حد سے زیادہ انہماک ہے۔ذرا سا نقصان دنیا کا ہوتا دیکھ کر دین کے حصے کو ترک کر دیتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے حقوق ضائع کر دیتے ہیں۔جیسے کہ یہ سب باتیں مقدمہ بازیوں اور شرکاء کے ساتھ تقسیم حصص میں دیکھی جاتی ہیں۔لالچ کی نیت سے ایک دوسرے سے پیش آتے ہیں۔نفسانی جذبات کے مقابلہ میں بہت کمزور ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴مورخہ ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۶