ملفوظات (جلد 4) — Page 52
قرآن کریم سے اس زمانہ کی خبر ریل وغیرہ کے ذکر پر فرمایا کہ اس زمانے میں خدا نے ہماری جماعت کو فائدہ پہنچایا ہے کہ سفر کو بہت آرام ہے ورنہ کہاں سے کہاں ٹھوکریں کھاتا ہوا انسان ایک دوسرے مقام پر پہنچتا تھا۔مدراس جہاں سیٹھ عبد الرحمان ہیں اگر کوئی جاتا تو گرمیوں میں روانہ ہوتا تو سردیوں میں پہنچتا تھا۔اس زمانے کی نسبت خدا نے خبرد ی ہے وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ(التّکویر: ۸)کہ جب ایک اقلیم کے لوگ دوسرے اقلیم والوں کے ساتھ ملیں گے۔۱ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ(التّکویر: ۱۱) یعنی اس وقت خط و کتابت کے ذریعہ عام ہوں گے اور کتب کثرت سے دستیاب ہوسکیں گی۔وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ(التّکویر: ۵) اس وقت اونٹنیاں بے کار ہوں گی۔ایک زمانہ تھا کہ یہاں ہزارہا اونٹ آیا کرتے مگر اب نام و نشان بھی نہیں ہے اور مکہ میں بھی اب نہ رہیں گے۔ریل کے جاری ہونے کی دیر ہے۔کسوف و خسوف اور شقّ القمر پھر عرب صاحب نے کسوف وخسوف رمضان کی نسبت دریافت کیا کہ اس کا ذکر آپ کی کتب میں بھی ہے کہ نہیں؟ فرمایا کہ یہ ایک پرانا نشان چلا آتا تھا جو کہ اس وقت پورا ہوا ہے۔براہین احمدیہ میں اس کا ذکر استعارہ کے طور پر اس طرح ہے وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ یہ میرا الہام بھی ہے اور بعض محدّثین کا مذہب یہ بھی ہے کہ شقُّ القمر بھی ایک قسم خسوف میں سے تھا۔(مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حوالہ دیا کہ عبد اﷲ ابن عباس کا بھی یہی مذہب ہے) اور شاہ عبد العزیز بھی یہی کہتے ہیں اور ہمارا اپنا مذہب بھی یہی ہے کہ از قسم خسوف تھا۔کیونکہ بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں۔طوفانِ نوح نوح علیہ السلام کے طوفان کی نسبت فرمایاکہ قرآن سے یہ ثابت نہیں ہے کہ کل زمین کی آبادی کو اس وقت تباہ کر دیا تھا۔۱ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۶؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۱