ملفوظات (جلد 4) — Page 49
اور ویسے ہی لباس وغیرہ وہ پہنیں۔جو شخص ایک قوم کے لباس کو پسند کرتا ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ اس قوم کو اور پھر ان کے دوسرے اوضاع و اطوار اور حتی کہ مذہب کو بھی پسند کرنے لگتا ہے۔اسلام نے سادگی کو پسند کیا ہے اور تکلّفات سے نفرت کی ہے۔چُھری کانٹے سے کھانے پر فرمایا کہ شریعت اسلام نے چُھری سے کاٹ کر کھانے سے تو منع نہیں کیا۔ہاں تکلف سے ایک بات یا فعل پر زور ڈالنے سے منع کیا ہے۔اس خیال سے کہ اس قوم سے مشابہت نہ ہو جاوے ورنہ یوں تو ثابت ہے کہ آنحضرتؐنے چُھری سے گوشت کاٹ کر کھایا۔اور یہ فعل اس لئے کیا کہ تا امت کو تکلیف نہ ہو۔جائز ضرورتوں پر اس طرح کھانا جائز ہے۔مگر بالکل اس کا پابند ہونا اورتکلف کرنا (اور کھانے کے دوسرے طریقوں کو حقیر جاننا )منع ہے کیونکہ پھر آہستہ آہستہ انسان کی نوبت تتبع کی یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ ان کی طرح طہارت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْـھُمْ سے مراد یہی ہے کہ التزاماً ان باتوں کو نہ کرے ورنہ بعض وقت ایک جائز ضرورت کے لحاظ سے کر لینا منع نہیں ہے جیسے کہ بعض دفعہ کام کی کثرت ہوتی ہے اور بیٹھے لکھتے ہوتے ہیں تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ کھانا میز پر لگا دو اور اس پر کھا لیتے ہیں اور صف پر بھی کھالیتے ہیں۔چارپائی پر بھی کھالیتے ہیں۔تو ایسی باتوں میں صرف گذارہ کو مد نظر رکھنا چاہیے۔تشبیہ کے معنے اس حدیث میں یہی ہیں کہ اس لکیر کو لازم پکڑ لینا۔ورنہ ہمارے دین کی سادگی تو ایسی شَے ہے کہ جس پر دیگر اقوام نے رشک کھایا ہے اور خواہش کی ہےکہ کاش ان کے مذہب میں یہ ہوتی اور انگریزوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اکثر اصول ان لوگوں نے عرب سے لے کر اختیار کئے ہیں مگر اب رسم پرستی کی خاطر وہ مجبور ہیں۔ترک نہیں کرسکتے۔داڑھی رکھنا انبیاء کا طریق ہے پھر عرب صاحب نے داڑھی کی نسبت دریافت کیا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ انسان کے دل کا خیال ہے بعض انگریز تو داڑھی اور مونچھ سب منڈوا دیتے ہیں وہ اسے