ملفوظات (جلد 4) — Page 48
پھر اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا۔بارہا الحکم میں درج ہوا ہے۔آخر اس لطیفہ پر اس کو ختم کردیا کہ مریم صفات والے کے لئے ضرور ہے کہ وہ عیسویت کے رنگ میں تبدیل ہو جاوے۔اگر اس آیت میں صرف مریم کا لفظ ہوتا تو بہت سے افراد ہوسکتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے احصان فرج اور نفخِ روح کی قید لگا کر بتا دیا ہے کہ ایک ہی شخص ہوگا۔یہ ایک استعارہ تھاجو کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔اس کے لئے یہی وقت مقدر تھا۔پھر عجیب تربات یہ ہے کہ مریم، نفخ روح اور میرا نام عیسیٰ رکھنے کے الہاموں میں صرف نویا دس ماہ کا فاصلہ ہے جو کہ مدت حمل ہے۔ان تمام ترقیات کا سلسلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔کسی کو کیا خبر ہے کہ کس طرح ایک بیج زمین کے اندر کیا کیا بن کر آخر کار ایک پتّا بن جاتا ہے۔۱ ٍ ۷؍جنوری ۱۹۰۳ء ظاہر وباطن میں اسلام کا نمونہ اختیار کرنا چاہیے حضرت اقدس حسب دستور سیر کے لئے تشریف لائے اور روانہ ہوتے ہی عرب صاحب نے انگریزی قطع وضع پر کچھ ذکر چھیڑا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان کو جیسے باطن میں اسلام دکھلانا چاہیے ویسے ہی ظاہر میں بھی دکھلانا چاہیے۔ان لوگوں کی طرح نہ ہونا چاہیے کہ جنہوں نے آج کل علیگڑھ میں تعلیم پا کر کوٹ پتلون وغیرہ سب کچھ ہی انگریزی لباس اختیار کر لیا ہے حتی کہ وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی عورتوں کی وضع بھی انگریزی عورتوں کی طرح ہو (بقیہ حاشیہ) بعد نفس لوامہ والے جو کہ فرعون کی بیوی ہیں۔یعنی ان کو نفس ہمیشہ ملامت کرتا رہتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امارہ سے ان کو آزادی ملے یہ کم ہوتے ہیں اور پھر ان سے کم نفس مطمئنّہ والے یعنی مریم بنت عمران۔جس زمانے کا وعدہ خدا نے کیا ہوا تھا ضرور تھا کہ اس میں ایک نفس مریم کی طرح ہوتا اور اس زمانے میں خدا نے فیہ میں ضمیر مذکر کی استعمال کی ہے تاکہ اشارہ اس طرف ہو کہ ایک مَرد ہوگا جو صفات مریمیّت حاصل کرکے عیسیٰ ہوگا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۶؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰) ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۳مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸تا ۱۰