ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 47

میں جہاں مومنوں کی مثالیں بیان کی ہیں۔ان میں فرمایا وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا(التحریم:۱۳)۔مقامِ مریمیّت فرمایا۔اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کو اس میں دو قسم کی عورتوں سے مثال دی ہے۔اوّل فرعون کی بیوی سے اور ایک مریم سے۔پہلی مثال میں یہ بتایا ہے کہ ایک مومن اس قسم کے ہوتے ہیں جو ابھی اپنے جذبات نفس کے پنجہ میں گرفتار ہوتے ہیں اور ان کی بڑی آرزو اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ خد اان کو اس سے نجات دے۔یہ مومن فرعون کی بیوی کی طرح ہوتے ہیں کہ وہ بھی فرعون سے نجات چاہتی تھی مگر مجبور تھی۔لیکن جو مومن اپنے تئیں تقویٰ اور طہارت کے بڑے درجہ تک پہنچاتے ہیں اور احصانِ فرج کرتے ہیں تو پھر خدا تعالیٰ ان میں عیسیٰ کی روح نفخ کر دیتا ہے۔نیکی کے یہ دو مرتبے ہیں جو مومن حاصل کرسکتا ہے مگر دوسرا وہ بہت بڑھ کر ہے کہ اس میں نفخ روح ہو کر وہ عیسیٰ بن جاتا ہے یہ آیت صاف اشارہ کرتی ہے کہ اس امت میں کوئی شخص مریم صفت ہوگا کہ اس میں نفخ روح ہو کر عیسیٰ بنا دیا جاوے گا۔اب کوئی عورت تو ایسی ہے نہیں اور نہ کسی عورت کے متعلق پیشگوئی ہے۔اس لئے صاف ظاہر ہے کہ اس سے یہی مراد ہے کہ اس امت میں ایک ایسا انسان ہوگا جو پہلے اپنے تقویٰ و طہارت اور احصان و عفت کے لحاظ سے صفتِ مریمیّت سے موصوف ہوگا اور پھر اس میں نفخ روح ہو کر صفات عیسوی پیدا ہوں گی۔اب اس کی کیفیت اور لطافت براہین احمدیہ سے معلوم ہوگی کہ پہلے میرا نام مریم رکھا۔پھر اس میں روح صدق نفخ کرکے مجھے عیسیٰ بنایا۔مومنوں کی جو یہ دو مثالیں بیان کی گئی ہیں۔وہ اس آیت۱ سے بھی معلوم ہوتی ہیں۔۱ الحکم میں اس آیت کا ذکر رہ گیا ہے۔مگر البدر میں اس کی تفصیل دی ہے جو درج ذیل ہے۔’’امت کی دو ہی قسم ہیں۔ایک فرعون کی بیوی اور دوسرے مریم بنت عمران اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے مِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ (فاطر: ۳۳) ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو کہ نفس امارہ کے تابع ہیں کہ جس راہ پر نفس نے ڈالا اسی راہ پر چل پڑے اور وہ صُمٌّۢ بُكْمٌ (البقرۃ: ۱۹) کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی مثال بہائم کی ہے۔اس لئے کسی مد میں نہیں آسکتے اور یہ کثرت سے ہوتے ہیں۔پھر ان کے