ملفوظات (جلد 4) — Page 43
کرکے فرمایا) یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف جو علوم لے کر آیا ہے وہ دنیا کی کسی اور کتاب میں پائے نہیں جاتے ہیں۔توریت میں کسی علوم کا ذکر نہیں اور انجیل میں نشان تک بھی نہیں پایا جاتا۔قرآن کریم کی عظمت کے بڑے بڑے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں عظیم الشان علوم ہیں جو توریت و انجیل میں تلاش کرنے ہی عبث ہیں اور ایک چھوٹے اور بڑے درجہ کا آدمی اپنے اپنے فہم کے موافق ان سے حصہ لے سکتا ہے۔توریت کو دیکھو کہ ہستی باری تعالیٰ اور قیامت کے متعلق ایک بھی فقرہ اس میں نہیں ہے ادھر قرآن شریف کو دیکھو کہ ہستی باری تعالیٰ اور قیامت کے کیسے دلائل بھرے ہوئے ہیں اور پھر عقلی اور نقلی دونو طرح کے ثبوت ہیں۔قرون اُولیٰ میں صرف نقل ہی نقل تھی۔پھر یہود، نصاریٰ، آریہ، برہمو، نیچری غرض سب فرقوں کا ردّ اس میں موجود ہے۔غرض قرآن شریف ایک اکمل اور اتم کتاب ہے۔اﷲ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ خلقت میں علوم حاصل کرنے کے دماغ موجود ہوگئے ہیں تو اس نے قرآن جیسی کتاب بھیج دی۔موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں مطابقت غرض یہ سلسلہ موسوی سلسلہ سے کسی صورت میں کم نہ رہا۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک تو مماثلت اور مطابقت میں فرمایا کہ بدی کا حصہ بھی تم کو ویسے ہی ملے گا جیسے یہود کو ملا اور اس سلسلہ کی نسبت بار بار ذکر ہوا کہ آخیر تک اس کی عظمت قائم رکھے گا۔سورۃ فاتحہ میں بھی اس کا ذکر ہے جب کہ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ (الفاتـحۃ: ۷) فرمایا۔مغضوب سے مراد یہودی ہیں۔اب قابل غور یہ اَمر ہے کہ یہودی کیسے مغضوب ہوئے۔انہوں نے پیغمبروں کو نہ مانا اور حضرت عیسیٰ کا انکار کیا توضرور تھا کہ اس امت میں بھی کوئی زمانہ ایسا ہوتا اور ایک مسیح آتا جس سے یہ لوگ انکار کرتے اور وہ مماثلت پوری ہوتی ورنہ کوئی ہم کو بتائے کہ اگر اسلام پر ایسا زمانہ کوئیآنے والا ہی نہ تھا اور نہ کوئی مسیح آنا تھا پھر اس دعائے فاتحہ کی تعلیم کا کیا فائدہ تھا۔قرآن شریف کی مختلف آیات کے جمع کرنے سے اور پھر ان پر یکجائی نظر کرنے سے صاف پتا لگتا ہے کہ آنے والا مسیح ضرور اس امت میں سے ہوگا اور حدیث بھی اس کی شرح کرتی ہے اور کہتی