ملفوظات (جلد 4) — Page 32
چھچھڑوں کے خواب۔شیطانی وہ جس میں ڈرانا اور وحشت ہو۔رحمانی خواب خدا کی طرف سے پیغام ہوتے ہیں اور ان کا ثبوت صرف تجربہ ہے۔اور یہ خد اکی باتیں ہیں جو کہ اس دنیا سے بہت دور تر ہیں اگر ہم ان کے متعلق عقلی دلائل پر توجہ کریں تو نہ دوسرا ان سے سمجھ سکتا ہے نہ ہم سمجھا سکتے ہیں۔یہ خدا کی ہستی کے نشان ہیں جو وہ غیب سے دل پر ڈالتا ہے اور جب دیکھ لیتے ہیں کہ ایک بات بتلائی گئی اور وہ پوری ہوئی تو پھر اس پر خود ہی اعتبار ہو جاتا ہے۔اس عالم کے امور کا جو آلہ ہے وہ اسے شناخت نہیں کرسکتا۔یہ روحانی امور ہیں۔انہیں سے ان کو پہچانا جاوے تو سمجھ آتی ہے۔اور خواب اپنی صداقت پر آپ ہی گواہی دیتے ہیں۔خدائی امور ایسے ہی ہوتے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آیا کرتے اور اگر وہ آجاویں تو پھر خدا بھی سمجھ میں آجاوے۔ایک معجزانہ رئویا پھر اس کے بعد حضرت اقدس نے اپنے ایک خواب کا ذکر کیا جس میں آپ نے دیکھاکہ اﷲ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر متمثّل ہوا ہے اور آپ نے کچھ احکام لکھ کر دستخط کرائے ہیں۔آپ نے وہ تمام کاغذات دستخط کے واسطے حضرت احدیت میں پیش کئے۔اس وقت اﷲ تعالیٰ ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور ایک دوات جس میں سرخ روشنائی تھی وہ پڑی تھی۔اﷲ تعالیٰ نے قلم لے کر اس روشنائی سے لگائی مگر مقدار سے زیادہ روشنائی اس میں لگ گئی جیسے کہ دستور ہے کہ ایسی حالت میں قلم کو چھڑک دیا کرتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے بھی چھڑک دیا اور کاغذات پر بلا دیکھے دستخط کر دیئے اور اس وقت میرے پاس میاں عبد اﷲ سنوری اور حامد علی تھے۔اور میں سویا ہوا تھا کہ یکایک انہوں نے جگایا کہ یہ سرخ قطرات کہاں سے آئے، دیکھا تو میرے کُرتے پر اور کسی جگہ پگڑی پر، کہیں پاجامہ پر پڑے ہوئے تھے۔میرے دل میں اس وقت بڑی رقّت تھی کہ خدا تعالیٰ کا مجھ پر کس قدر احسان ہے اور فضل ہے کہ کاغذات کو بلا دیکھے اور پوچھے دستخط کر دیا ہے۔اب کیا یہ حیرانی کی بات نہیں ہے کہ میں نے تو ایک معاملہ خواب میں دیکھا اور اس کے قطرات ظاہر میں کپڑوں پر پڑےجو کہ اب تک موجود ہیں اور دو شاہد بھی ہیں۔