ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 33

جماعت کی ترقی کا ایک نشان پھر وہ وقت کہ ایک دو آدمی ہمارے ساتھ تھے اور کوئی نہ تھا اور اب دیکھتے ہیں کہ جوق در جوق آرہے ہیں۔یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ اور پھر صرف اتنی ہی بات نہیں بلکہ اس کے اوپر ایک اور حاشیہ لگا ہوا ہے کہ مخالفوں نے ناخنوں تک زور لگایا کہ لوگ آنے سے رکیں مگر آخر کار وہ فقرہ پورا ہو کر رہا۔اب جو نیا شخص ہمارے پاس آتا ہے وہ اسی الہام کا ایک نشان ہوتا ہے۔اجنبیت کی حالت میں انسان خد اکے کاموں سے نا آشنا ہوتا ہے۔اب جیسے یہ ریل ہے کہ یہاں کے لوگوں کے نزدیک تو عام بات ہے اور کوئی تعجب اور حیرت کا مقام نہیں ہے مگر جہاں کہ دور دور آبادیوں میں یہ نہیں گئی اور نہ ان لوگوں نے اسے دیکھا ہے ان سے کوئی بیان کرے تو کب باور کریں گے کہ ایک سواری ہے کہ خود بخود چلتی ہے۔نہ اس میں گھوڑا ہے نہ بیل نہ اور جانور۔توجن کو ان خدائی امور کا تجربہ نہیں ان کی سمجھ میں نہیں آتے۔نماز میں لذّت نہ آنے کی وجہ پھر اسی صاحب نے اعتراض کیا کہ بہت کوشش کی جاتی ہے مگر نماز میں لذّت نہیں آتی۔فرمایا۔انسان جو اپنے تئیں امن میں دیکھتا ہے تو اسے خدا کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔حالتِ استغنا میں انسان کو خد ایاد نہیں آیا کرتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری طرف وہ متوجہ ہوتا ہے جس کے بازو ٹوٹ جاتے ہیں۔اب جو شخص غفلت سے زندگی بسر کرتا ہے اسے خدا کی طرف توجہ کب نصیب ہوتی ہے۔انسان کا رشتہ خدا کے ساتھ عاجزی اور اضطراب کے ساتھ ہے لیکن جو عقلمند ہے وہ اس رشتہ کو اس طرح سے قائم رکھتا ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ میرا باپ دادا کہاں ہے اور اس قدر مخلوق کو ہر روز مَرتا دیکھ کر وہ انسان کی فانی حالت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کی برکت سے اسے پتا لگ جاتا ہے کہ میں بھی فانی ہوں اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ جہان چھوڑ دیا جاوے گا۔اور اگر وہ اس میں زیادہ مبتلا ہے تو اُسے اِسے چھوڑ نے کے وقت حسرت بھی زیادہ ہوگی اور یہ حسرت ایسی ہے کہ خواہ آخرت پر ایمان نہ ہی ہو تب بھی اس کا اثر ضرور ہوتا ہے اور اس سے امن اس وقت ملتا