ملفوظات (جلد 4) — Page 29
آثار سے پتا لگتا ہے کہ جہاں جہاں طاعون پڑی ہوئی ہے ابھی تک لوگ اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ابھی کل امرتسر سے ایک اشتہار آیا ہے کہ تین سالہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اس پر استہزا کیا ہے حالانکہ ان کو چاہیے تھا کہ وہ انتظار کرتے کہ ہم کیا لکھتے ہیں کم سے کم ہم سے دریافت ہی کر لیتے کہ ہم کیا کہتے ہیں۔لوگوں کو بھی شرم نہیں آتی جو کہ ان کے گالیوں سے بھرے ہوئے اشتہار پڑھتے ہیں کیا مولویوں کی پاکیزگی کا یہی نمونہ ہے ان لوگوں کی بڑی کامیابی یہی ہے کہ ممبر پر چڑھ کر نثر اور نظم پڑھ دی۔سمجھ میں نہیں آتا۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے خود ہی توڑے تو توڑے۔اشاعت کا بہتر طریق جہلم کے سفر پر فرمایا کہ میری طبیعت ہمیشہ شور اور غوغا سے جو کثرتِ ہجوم کے باعث ہوتا ہے متنفّر ہے ایسے لوگوں کے ساتھ مغز خوری کرنی بے فائدہ ہے وہی وقت انسان کسی علمی فکر میں صرف کرے تو خوب ہے خدا تعالیٰ نے ہماری اشاعت کا طریق خوب رکھا ہے۔ایک جگہ بیٹھے ہیں نہ کوئی واعظ ہے نہ مولوی نہ لیکچرار جو لوگوں کو سناتا پھرے۔وہ خود ہی ہمارا کام کر رہا ہے بیعت کرنے والے خود آرہے ہیں بڑے امن کا طریق ہے۔۱ ۵؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز دو شنبہ(بوقتِ ظہر) مذہبی آزادی اور جہاد کی حقیقت اس وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تو کچھ سرحد کے لوگوں کی جہاد کے بارے میں غلط فہمی کا ذکر چل پڑا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ(البقرۃ: ۲۵۷) کہ دین میں کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔اس قسم کا فقرہ انجیل میں کہیں بھی نہیں ہے۔لڑائیوں کی ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱، ۲ مورخہ ۲۳، ۳۰ ؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲،۳