ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 28

عذاب کی اقسام ایک نے سوال کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں طاعون کیوں نہ پڑی ان کا بھی انکار ہوا تھا۔فرمایا۔یہ ضرور نہیں ہے کہ خدا ہر وقت ایک ہی رنگ میں عذاب دیوے۔قرآن شریف میں عذاب کی کئی اقسام بیان کی ہیں۔جیسےقُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّ يُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ(الانعام: ۶۶) جنگ اور لڑائی وغیرہ کو بھی عذاب قرار دیا ہے۔عذاب بہت اقسام کے ہوتے ہیں کیا خدا کے پاس عذاب کی ایک ہی قسم ہے؟ اور خدا کی عادت ہے کہ ہر نشان میں ایک پہلو اخفا کارکھتا ہے ورنہ وہ چاہے تو چُن چُن کر بڑے بدمعاش ہلاک کر دے سب لوگ ایک ہی دن میں سیدھے ہو جاویں۔ایک الہام کی تشریح مولوی محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ حضور اب اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ کا الہام خوب پورا ہوا۔حضور کے بتلائے ہوئے علاج پر لوگ کیا کیا باتیں بناتے تھے اور طریق ملامت ان لوگوں نے اختیار کیا ہوا تھا۔خدا تعالیٰ نے ان کو اس ملامت کے بدلے میں کیسی ملامت کی ہے۔جس ٹیکہ کو پیش کرکے ملامت کرتے تھے اب خود ہی اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔پھر حضرت اقدس نے ایک مقام پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں اسے (طاعون کو) کبھی بند نہ کروں گا جب تک توبہ نہ کریں۔خدا تعالیٰ کا اصل مطلب تو طاعون سے افطار ہے (یعنی ہلاک کرنے کا) مگر پھر رحم آتا ہے تو روزہ رکھ لیتا ہے (یعنی درمیان میں وقفہ دے دیتا ہے) کہ لوگ اگر چاہیں تو تبدیلی کر لیں۔لوگوں سے اگرچہ ہمیں ہمدردی ہے مگر چونکہ لوگ خدا سے غافل ہیں اس لئے اس کو یاد کرانے کے واسطے تنبیہ کی ضرورت ہے جیسے ایک لحاف کے اندر کا استر بھی میلا اور پلید ہو اور باہر کا ابرہ بھی ویسے ہی خراب ہو۔اسی طرح اب اندرونی اور بیرونی دونوں حالتیں قابل اصلاح ہیں لوگوں کو یہ بات تعجب میں ڈال رہی ہے کہ کیا ایسا ہوگا کہ خدا اپنی ہستی کو منواوے یہ ان کی غلطی ہے وہ اپنے وجود کو ضرور منواوے گا۔