ملفوظات (جلد 4) — Page 357
۳۰؍ مارچ۱۹۰۳ء بعد ادائے نماز مغرب ایک صاحب نے کسی شخص غیر حاضر کی طرف سے مسئلہ دریافت کیا کہ اس نے غصّہ میں اپنی عورت کو طلاق دی ہے اور لکھ بھی دی ہے مگر ایک ہفتہ کے قریب گذرنے پروہ رجوع کرنا چاہتا ہے اس میں کیا ارشاد ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ جب تک وہ شخص خودحاضر ہو کر بیان نہ کرے ہم نہیں فتویٰ دے سکتے۔۱ صدقات اور دعا لوگ اس نعمت سے بے خبر ہیں کہ صدقات، دعا اور خیر ات سے ردبلا ہوتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو انسان زندہ ہی مَر جاتا۔مصائب اور مشکلات کے وقت کوئی اُمید اس کے لیے تسلّی بخش نہ ہوتی مگر نہیں اسی نے لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ(اٰل عـمران:۱۰) فرمایا ہے لَا یُخْلِفُ الْوَ عِیْدَ نہیں فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے وعید معلّق ہوتے ہیں جو دعا اور صدقات سے بدل جاتے ہیں اس کی بے انتہا نظیریں موجود ہیں۔اگرایسا نہ ہوتا توانسان کی فطرت میں مصیبت اور بَلا کے وقت دعا اور صدقات کی طرف رجوع کرنے کا جوش ہی نہ ہوتا۔جس قدرراست باز اور نبی دنیا میں آئے ہیں خواہ وہ کسی ملک اور قوم میں آئے ہوں مگر یہ بات ان سب کی تعلیم میں یکساں ملتی ہے کہ انہوں نے صدقات اور خیرات کی تعلیم دی۔اگر خدا تعالیٰ تقدیرکے محوو اثبات پر قادرنہیں تو پھر یہ ساری تعلیم فضول ٹھہر جاتی ہے اور پھر ماننا پڑےگا کہ دعا کچھ نہیں اور ایسا کہنا ایک عظیم الشان صداقت کا خون کرنا ہے۔اسلام کی صداقت اور حقیقت دعاہی کے نکتہ کے نیچے مخفی ہے کیونکہ اگر دعا نہیں تو نماز بے فائدہ، زکوۃ بے سوداور اسی طرح سب اعمال معاذاللہ لغو ٹھہرتے ہیں۔۱ البدر جلد۲نمبر۱۲ مو رخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ءصفحہ۹۱