ملفوظات (جلد 4) — Page 350
کہ بعض پہلو اخفا کے ہوں کیونکہ نشانا ت کے ظاہر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایمان بڑھے اور اس میں ایک عرفانی رنگ پیدا ہو جس میں ذوق ملا ہوا ہو لیکن جب ایسی کھلی باتیں ہوںگی تو اس میں ایمانی رنگ ہی نہیں آسکتا چہ جا ئیکہ عرفانی اور ذوقی رنگ ہو۔پس اقتراحی نشانات سے اس لیے منع کیا جاتا ہے اور روکا جاتا ہے کہ اس میں پہلی رگ سوءِ ادبی کی پیدا ہو جاتی ہے جو ایمان کی جڑکا ٹ ڈالتی ہے۔۱ نشانات کس سے صادرہوتے ہیں اس سوال کا جواب حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام نے ایک بار اپنی ایک مختصر سی تقریر میں دیا ہے۔فرمایا۔نشانات کس سے صادرہوتے ہیں؟ جس کے اعمال بجائے خود خوارق کے درجہ تک پہنچ جائیں مثلاً ایک شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا داری کرتا ہے وہ ایسی وفاداری کرے کہ اس کی وفا خارقِ عادت ہو جاوے۔اس کی محبت، اس کی عبادت خارقِ عادت ہو۔ہر شخص ایثار کرسکتا ہے اور کرتا بھی ہے لیکن اس کا ایثار خارقِ عادت ہو غرض اس کے اخلاق، عبادات اور سب تعلقات جو خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتا ہے اپنے اندر ایک خارقِ عادت نمونہ پیدا کریں تو چونکہ خارق عادت کا جواب خارقِ عادت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر کرنے لگتا ہے۔پس جو چاہتا ہے کہ اس سے نشانات کا صدور ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے اعمال کو اس درجہ تک پہنچائے کہ ان میں خارقِ عادت نتائج کے جذب کی قوت پیدا ہونے لگے۔انبیاء علیہم السلام میں یہی ایک نرالی بات ہوتی ہے کہ ان کا تعلق اندرونی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا شدید ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کا ہرگز نہیں ہوتا۔ان کی عبودیت ایسا رشتہ دکھا تی ہے کہ کسی اور کی عبودیت نہیں دکھا سکتی۔پس اس کے مقابلہ میں ربوبیت اپنی تجلّی اور اظہار بھی اسی حیثیت اور رنگ کا کرتی ہے۔عبودیت کی مثال عورت کی سی ہوتی ہے کہ جیسے وہ حیا و شرم کے ساتھ رہتی ہے اور جب مَرد بیا ہنے جاتا ہے تو وہ اعلانیہ جاتا ہے اسی طرح پر عبودیت پردہ اخفا میں ہوتی ہے لیکن اُلُو ہیّت جب اپنی تجلّی کرتی ہے تو پھر وہ ایک بیّن اَمر ہو جاتا ہے ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳ءصفحہ ۳