ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 343

ہتھیار ان کے پاس زیادہ رہتے۔فتوحا ت کا سلسلہ ان کے واسطے کھولا جاتا۔مگر یہاں تو بالکل ہی برعکس نظر آتا ہے ہتھیا ر ان کے ایجا دنہیں۔ملک ودولت ہے تو اَوروں کے ہاتھ ہے۔ہمّت و مَردانگی ہے تو اَوروں میں۔یہ ہتھیا روں کے واسطے بھی دوسروں کے محتاج۔دن بدن ذلّت اور ادباران کے گرد ہے۔جہاں دیکھو جس میدان میں سنو انہیں کوشکست ہے۔بھلا کیا یہی آثار ہو اکرتے ہیں اقبال کے؟ ہرگز نہیں یہ بھولے ہوئے ہیں۔زمینی تلواراورہتھیاروں سے ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتے۔ابھی تو ان کی خود اپنی حالت ایسی ہے کہ بے دینی اور لا مذہبی کا رنگ ایسا آیاہے کہ قابلِ عذاب اور موردِ قہر ہیں۔پھر ایسوں کو کبھی تلوار ملی ہے؟ ہرگزنہیں۔ان کی ترقی کی وہی سچی راہ ہے کہ اپنے آپ کو قرآن کی تعلیم کے مطابق بناویں اور دعا میں لگ جاویں۔ان کو اب اگر مدد آ و ے گی تو آسمانی تلوار سے اور آسمانی حربہ سے نہ اپنی کوششوں سے اور دعا ہی سے ان کی فتح ہے نہ قوتِ بازو سے۔یہ اس لیے ہے کہ جس طرح ابتدا تھی انتہا بھی اسی طرح ہو۔آدم اول کو شیطان پر فتح دعاہی سے ہوئی تھی رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا۔۔۔۔الـخ (الاعراف:۲۴) اور آدم ثانی کو بھی جو آخری زمانہ میں شیطان سے آخری جنگ کرتا ہے اسی طرح دعا ہی کے ذریعہ سے فتح ہو گی۔۱،۲ ۲۵ ؍مارچ ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) ہمارا سب سے بڑا کام کسر صلیب ہے حضرت اقدس نے جو حجر ہ دعائیہ بنایا ہے اس کی نسبت فرمایا کہ ہمارا سب سے بڑا کام تو کسر صلیب ہے۔اگر یہ کام ہو جاوے تو ہزاروںشبہات اور اعتراضات ۱ البدرمیں ہے۔گائے وغیرہ کی حلّت اور حرمت پرذکر ہوا۔فرمایاکہ ’’حرام کی تو تفصیل خدا نے دی ہے اور حلال کی کوئی تفصیل نہیں دی جس سے پتا لگے کہ فلاں شَے ضرور کھائو سو اس لیے گائے کے ذبح وغیرہ کا ذ کرکے ناحق موجب فساد ہونا مناسب نہیںہوتا۔‘‘ (البدرجلد۲نمبر۱۱مورخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ءصفحہ۸۴) ۲ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳ءصفحہ ۷، ۸