ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 27

بگڑی ہوئی حالتوں کا علم نہ تھا۔خدا تعالیٰ کی وحی پر ایمان تھا اور اب عرفان کی حالت پیدا ہو گئی ہے جو چاہے ان ممالک میں جا کر دیکھ لے۔۱ ۴؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز یکشنبہ(بوقتِ سیر) طاعون کا حتمی علاج طاعون کے متعلق ذکر ہوا فرمایا کہ ہمارا علاج کوئی کان دھر کر سنتا نہیں ہے مگر بہرحال آخری علاج یہی ہے۔لوگوں کی عادت ہو گئی ہے کہ ان کی نظر صرف اسباب پر رہتی ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ آسمان سے سب کچھ ہوتا ہے جب تک وہاں نہ ہو لے زمین پر کچھ نہیں ہوسکتا۔دہریت کا آج کل طبائع میں بہت زور ہے۔اخباروں میں ہمارے بتلائے ہوئے علاج پر ٹھٹھا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ طاعون کو خدا سے کیا تعلق۔ایک بیماری ہے جس کا علاج ڈاکٹروں سے کرانا چاہیے۔ایک صاحب نے بعض لوگوں کا یہ اعتراض پیش کیا کہ طاعون سے اکثر غریب ہی مَرتے ہیں مخالف اور امیر نہیں مَرتے۔فرمایا کہ میرے الہاموں سے پایا جاتا ہے کہ ہم دور سے شروع ہوں گے۔مکہ میں جب قحط پڑا تو اس میں بھی اوّل غریب لوگ ہی مَرے۔لوگوں نے اعتراض کیا کہ ابو جہل جو اس قدر مخالف ہے وہ کیوں نہیں مَرا؟ حالانکہ اس نے تو جنگ بدر میں مَرنا تھا۔یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایک ابتلا ہوا کرتا ہے اور یہ اس کی عادت ہے اور پھر اس کے علاوہ یہ اس کی مخلوق ہے۔اس کو ہر ایک کے نیک و بد کا علم ہے۔سزا ہمیشہ مجرم کے لئے ہوا کرتی ہے غیر مجرم کے واسطے نہیں ہوتی۔بعض نیک بھی اس سے مَرتے ہیں مگر وہ شہید ہوتے ہیں اور ان کو بشارت ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ سب کی نوبت آجاتی ہے۔اب رسل بابا جو مَرا۔کیا وہ امیروں میں سے نہ تھا۔ہمارا بھی مخالف تھا۔۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ تا ۱۱