ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 334

خدا کے نزدیک اس درجہ کا نہیں ہوتا بلکہ وہ دوسروں کے شرک سے قابل نفرت ہو گیا ہوا ہوتا ہے۔ایمان کم ہوتا ہے اور لافیں زیادہ ہوتی ہیں خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا(الاحزاب:۶۳)۱ بھلا یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ ہم خدا کو وعدہ خلاف یا جھوٹا کہیں اور اس کی نسبت الزام کا خیال بھی کریں۔اصل میں ایسے لوگوں کا ایمان ناکارہ ایمان ہوتا ہے جولعنت کے مورد ہوتے ہیں نہ رحمت کے۔وہ اصل میں خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ظاہر کچھ ہوتا ہے اور با طن کچھ۔بھلا خلق نے تو دھوکا کھا بھی لیا مگر وہ جس کی نظراندرون دراندرون پہنچتی ہے وہ کسی کے دھوکا میں آسکتاہے۔انبیاء کے نقش قدم پر چلو انسان کو چاہیے کہ ساری کمندوں کو جلا دے اور صرف محبت الٰہی ہی کی کمندکو باقی رہنے دے۔خدا نے بہت سے نمونے پیش کئے ہیں آدم سے لے کر نوح و ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام تک کل انبیاء اسی نمونہ کی خاطر ہی تو اس نے بھیجے ہیں تا لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں۔جس طرح وہ خدا تک پہنچے اسی طرح اور بھی کوشش کریں سچ ہے کہ جو خدا کاہوجاتا ہے خدا اس کاہوجاتا ہے۔یادرکھو کہ ایسا نہ ہو کہ تم اپنے اعمال سے ساری جماعت کو بدنا م کرو۔شیخ سعدی صاحب فرماتے ہیں۔ع بد نام کنندہ نکو نامے چند بلکہ ایسے بنو کہ تاتم پرخدا کی برکات اور اس کی رحمت کے آثار نازل ہوں۔وہ عمروں کو بڑھا بھی سکتا ہے مگر ایک وہ شخص جس کا عمر پانے سے مقصد صرف ورلی دنیا ہی کے لذائذاور حظوظ ہیں اس کی عمر کیا فائدہ بخش ہوسکتی ہے؟ اس میں تو خدا کا حصہ کچھ بھی نہیں۔وہ اپنی عمر کا مقصد صرف عمدہ کھانے کھانے اور نیندبھر کے سونے اور بیوی بچوں اور عمدہ مکان کے یا گھوڑے وغیرہ رکھنے یا عمدہ باغات یا فصل پر ہی ختم کرتا ہے۔وہ تو صرف اپنے پیٹ کا بندہ اور شکم کا عابد ہے۔اس نے تو اپنا مقصود ومطلوب اور معبود البدر سے۔’’جب تک انسان اپنا ایمان اُس حد تک نہیں پہنچاتا کہ سنّت سے فائدہ اُٹھا وے تو خدا کیسے اس کے لیے سنّت بدل دیوے۔‘‘ (البدرجلد۲نمبر۱۱مورخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۳)