ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 331

رہا ہے۔ایسے وقت میں اپنے آپ کو دھوکا مت دو اور صاف دل سے اپنی کوئی پناہ بنالو۔یہ بیعت اور توبہ اس وقت فائدہ دیتی ہے جب انسان صدق دل اور اخلاص نیت سے اس پرقائم اور کار بندبھی ہو جاوے۔خدا خشک لفّاظی سے جو حلق کے نیچے نہیں جاتی ہرگز ہرگز خوش نہیں ہوتا۔ایسے بنوکہ تمہارا صدق اور وفا اور سوزوگدازآسمان پر پہنچ جاوے۔خدا تعالیٰ ایسے شخص کی حفاظت کرتا اور اس کو برکت دیتا ہے جس کو دیکھتا ہے کہ اس کا سینہ صدق اور محبت سے بھرا ہوا ہے وہ دلوں پر نظر ڈالتا اور جھا نکتا ہے نہ کہ ظاہری قیل وقال پر۔جس کا دل ہر قسم کے گنداور ناپاکی سے معرّا اور مبرّا پاتا ہے اس میں آاتر تا ہے اور اپنا گھر بناتا ہے مگر جس دل میں کوئی کسی قسم کا بھی رخنہ یا ناپاکی ہے اس کو لعنتی بناتا ہے۔دیکھو! جس طرح تمہارے عام جسمانی حوائج کے پورا کرنے کے واسطے ایک مناسب اور کافی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح تمہاری روحانی حوائج کا حال ہے۔کیا تم ایک قطرہ پانی زبان پر رکھ کر پیا س بجھا سکتے ہو؟ کیا تم ایک ریزہ کھانے کا منہ میں ڈال کر بھوک سے نجات حاصل کرسکتے ہو؟ ہرگزنہیں۔پس اسی طرح تمہاری روحانی حالت معمولی سی توبہ یا کبھی کسی ٹوٹی پھوٹی نماز یا روزہ سے سنورنہیں سکتی۔روحانی حالت کے سنوارنے اور اس باغ کے پھل کھانے سے بھی تم کو چاہیے کہ اس باغ کو بھی وقت پر خدا کی جناب میں نمازیں اداکرکے اپنی آنکھوں کاپانی پہنچاؤ اور اعمال صالحہ کے پانی کی نہرسے اس باغ کو سیراب کرو تا وہ ہرا بھرا ہو اور پھلے پھولے اور اس قابل ہوسکے کہ تم اس سے پھل کھاؤ۔ایمان اور اعمال صالحہ یا درکھوایمان بغیر اعمال صالحہ کے ادھورا ایمان ہے۔کیا وجہ ہے کہ اگر ایمان کامل ہو تو اعمال صالحہ سرزد نہ ہوں؟ اپنے ایمان اور اعتقاد کو کامل کرو ورنہ کسی کام کا نہ ہوگا۔لوگ اپنے ایمان کو پورا ایمان تو بنا تے نہیں پھر شکایت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں انعامات نہیں ملتے جن کا وعدہ تھا۔بے شک خدا نے وعدہ فرمایا ہوا ہے کہ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۳،۴)۔