ملفوظات (جلد 4) — Page 327
اور ہنسی سے ان کا ذکر کرتے ہوں گے مگر یادرکھوکہ یہ اب آخری دن ہیں۔خدا تعالیٰ فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔لوگ بے حیائی، حیلہ بازی اور نفس پرستی میں حد سے زیادہ گذرے جاتے ہیں۔خدا کے عظمت وجلا ل اور توحید کا ان کے دلوںمیں ذرا بھی خیال نہیں گویا نا ستک مت ہو گئے ہیں۔کوئی کام بھی ان کا خدا کے لیے نہیں ہے۔ایک ما مور کی بعثت پس ایسے وقت میں اس نے اپنے ایک خاص بندہ کو بھیجا ہے تا اس کے ذریعہ سے دنیا میں ہدایت کا نور پھیلادے اور گمشدہ ایمان اور توحید کو ازسر نودنیا میں قائم کرے۔مگرجب دنیا نے اس کی پروا نہ کی اور الٹا دکھ دیا اور اس کی تکذیب کے لئے کمر بستہ ہو گئے تو خدا نے ان کو قہر کی آگ سے ہلاک کرنا شروع کیا۔کئی طرح کے عذابوں سے اس نے دنیا کو جگا یا ہے کہیں قحط ہوئے اور کہیں زلزلے آئے۔آ تش فشانیاں ہوئیں۔ہزار در ہزار لوگ تباہ ہوئے۔انہیں میں سے ایک طاعون بھی ہے۔یہ دورنہ ہوگی اور نہ جاوے گی جب تک یہ دنیا کو سیدھا نہ کرلے۔لوگ تسلّی پا جاتے ہیں کہ بس اب گئی اب نہیں آوے گی مگروہ دھوکا کھا تے ہیں۔ان نا دانوں کاتو کام ہی خدا سے جنگ کرنا ہو گیا ہے مگر وہ کہاں تک؟ وہ دنیا کو بتا نا چاہتا ہے کہ میں ضرور موجود ہوں اور ان کی بیباکیوں اور شرارتوں کو دور کرنا چاہتا ہوں مگر آہستہ آہستہ۔اس کے تمام کام بتدریج ہوا کرتے ہیں۔جب وہ دیکھتا ہے کہ دنیا طرح طرح کے ظلم اور فسادوں سے بھرگئی اور خدا کا نام دنیا سے اٹھ گیا۔اس کی توحید اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کی ہتک کی گئی تو وہ ایسے وقت میں اپنے خاص رحم سے اپنی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے اور اپنی خلقت کو ایک ایسے شخص کے سپرد کرتا ہے جو اس کوخدا کے عذاب سے بچا نے کے واسطے کوشش کرتا اور ان کا بڑا خیر خواہ ہے مگر جب دنیا اس کی پروا نہیں کرتی اور بجائے اس کے کہ اس سے محبت کریں اس کو ستایا جاتا اور دکھ دیا جاتا ہے تو خدا بھی اپنے غضب سے دنیا میں اپنا عذاب نازل کرتا ہے جو نا فر مانوں کو آگ کی طرح بھسم کرتا ہے اور خدا کی سلطنت کا رعب قائم کرتا اور صادق کی نصرت اور اس کے ہمراہیوں کو بطورنمونہ اس سے بچاتا ہے۔