ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 25

کی مگر اب بتائیں کہ ان کی ہنسی کا کیا جواب ہوا؟ اجنبی لوگ اگر نہ مانیں تو نہ سہی مگر ہماری جماعت جو دن رات نشانا ت کو دیکھتی ہے اسے چاہیے کہ اپنی تبدیلی کرے۔جو شخص امن کے زمانہ میں خدا سے ڈرتا ہے وہ بچایا جاتا ہے۔ڈرنے والے زمانہ میں تو ہر ایک ڈرتا ہے جب سونٹا اٹھایا جاوے تو اس سے بھیڑ، بکری، کتّا، بلّی سب ڈرتے ہیں۔انسان کی اس میں کون سی خوبی ہے یہ تو اس حالت میں ان سے جا ملا۔ورنہ اس کی دانشمندی اور دوربینی کا یہ تقاضا ہونا چاہیے تھا کہ پہلے ہی سے ڈرتا۔بعض گائوں میں سخت تباہی ہو چکی ہے یہاں تک کہ گھروں کے گھر مقفّل ہو گئے۔جب زور سے پڑتی ہے تو پھر کھا جانے والی آگ کی طرح ہوتی ہے۔ایک بار بلادِ شام میں پڑی تھی تو جانوروں تک کی صفائی اس نے کردی تھی۔یہ بڑی خطرناک بلا ہے۔اس سے بے خوف ہونا نادانی ہے۔حقیقی ایمان ایک موت ہے۔جب تک انسان اس موت کو اختیار نہ کرے۔دوسری زندگی مل نہیں سکتی۔تقویٰ کی اہمیت جو لوگ نری بیعت کرکے چاہتے ہیں کہ خدا کی گرفت سے بچ جائیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ان کو نفس نے دھوکا دیا ہے۔دیکھو طبیب جس وزن تک مریض کو دوا پلانی چاہتا ہے اگر وہ اس حدتک نہ پیوے تو شفا کی امید رکھنی فضول ہے۔مثلاً وہ چاہتا ہے کہ دس تولہ استعمال کرے اور یہ صرف ایک ہی قطرہ کافی سمجھتا ہے یہ نہیں ہوسکتا پس اس حد تک صفائی کرو اور تقویٰ اختیار کرو جو خدا کے غضب سے بچانے والا ہوتا ہے۔اﷲ تعالیٰ رجوع کرنے والوں پر رحم کرتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔انسان جب متقی ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے اور اس کے غیر میں فرقان رکھ دیتا ہے اور پھر اس کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے نہ صرف نجات بلکہ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ(الطّلاق: ۴)۔پس یاد رکھو جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کو مشکلات سے رہائی دیتا ہے اور انعام و اکرام بھی کرتا ہے اور پھر متقی خد اکے ولی ہو جاتے ہیں۔تقویٰ ہی اکرام کا باعث ہے کوئی خواہ کتنا ہی لکھا پڑھا ہوا ہو وہ اس کی عزّت و تکریم کا باعث نہیں اگر متقی نہ ہو۔لیکن اگر ادنیٰ درجہ کا آدمی بالکل اُمّی ہو مگر متقی ہو وہ