ملفوظات (جلد 4) — Page 317
طرح اظہار کرنا کہ ایک کلمہ بھی باقی نہ رہے اور سب ادا ہو جاوے اور مداہنہ اسے کہتے ہیں کہ ڈرکر حق کو چھپا لینا۔کھا لینا۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نرمی سے گفتگو کرکے پھر گر می پر آجاتے ہیں۔یہ مناسب نہیں ہے حق کو پورا پورا ادا کرنے کے واسطے ایک ہنر چاہیے۔وہ شخص بہت بہا در ہے جو کہ ایسی خوبی سے حق کو بیان کرے کہ بڑے غصہ والے آدمی بھی اسے سن لیویں۔خدا ایسوں پر راضی ہوتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ حق گو سے لوگ راضی نہ ہوں اگرچہ وہ نرمی بھی کرے مگر تاہم درمیا ن میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اچھا کہنے لگتے ہیں۔۱ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۳ء (قبل ازعشاء ) معجزہ شق القمر کی شہادت ہندوستا ن میں پنڈت نند کشور صاحب سے معجزا ت پر گفتگو ہوئی پنڈت صاحب نے معجزہ شق القمر کی نسبت کہا کہ بھو ج سوانح ایک کتاب سنسکر ت میں ہے مجھ سے پنڈتوں نے بیان کیا ہے کہ اس میں شق القمر کی شہادت راجہ بھوج سے ہے کہ وہ اپنے محل پر تھا یکایک اس نے چاند کو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا۔اس نے پنڈتوں کو بلا کر پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ چاند اس طرح پھٹا۔راجہ نے خیال کیا کہ کوئی عظیم الشان حادثہ ہوگا۔پنڈتوں نے جواب دیا کہ کوئی خطرہ نہیں ہے پچھم کے دیس میں ایک مہاتما پیدا ہو اہے۔وہ بہت یوگی ہے اس نے اپنے یوگ بھاش سے چاند کو ایسا کر دیا ہے تب راجہ نے اسے تحفہ تحائف ارسال کئے۔تفسیر قر آن کا طریق قر آن کی تفسیر کے متعلق فرمایا کہ خدا کے کلام کے صحیح معنے تب سمجھ میں آتے ہیں کہ اس کے تمام رشتہ کی سمجھ ہو۔جیسے قر آن شریف کی نسبت ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تفسیر کرتا ہے۔اس کے سوا جو اور کلام ہوگا وہ تو اپنا کلام ہوگا۔دیکھاگیاہے کہ بعض وقت ایک آیت کے معنے کرنے کے وقت ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مو رخہ ۲۷ ؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۵تا۷۷