ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 316

اس کے بعد قبول کرے گا اسے کیا فا ئد ہ ہوگا؟ جب سب حقیقت کھل گئی اور ایک سو دو سو آدمی کی شہادت بھی مل گئی تو اب کس کی عقل ماری ہے کہ انکار کرے نہ ہندو نہ چمار کسی کو گنجا ئش ہی انکار کی نہیں رہتی۔ہما رے ہاں لکھا ہے کہ اس قسم کا ایمان فائدہ نہیں دیتا۔اگر دن چڑھا ہوا ہو اور کوئی کہے کہ میں دن پر ایمان لایا، یا چاند پورا چودہویں کا ہے اور کوئی اس پر ایمان لا وے تو اسے کیا فائدہ ہوگا؟ اور کس تعریف کا مستحق ہے؟ ہاں اگر اول شب کے چاند پر جس کا نام ہلال ہے کوئی اسے دیکھ کر بتلا دے تو اس کی نظر کی تعریف کی جاوے گی اور جس کی نظر کم و بیش ہے وہ کھل جاوے گی۔تو نشانوں میں یہی اصول خدا نے رکھا ہے کہ ایک پہلو میں ایمان سے فائدہ اٹھا ویں اور ایک پہلومیں عقل سے ورنہ ایمان ایمان نہیں رہتا۔ایک مخفی اَمر کو عقل سے سوچ کرقرائن ملا کر مان لینے کا نام ایمان ہے۔۔۔ان لوگوں کی عقل موٹی ہے۔ایسے نشان طلب کرتے ہیں جو کہ عادت اللہ کے خلاف ہیں ہم یہ پیش کرتے ہیں کہ جو سچا مذہب ہوتا ہے اس میں امتیا ز ہوتا ہے جس قدر تائید ات اور خوارق جس حد تک خدا نے اسلام کی تائید میں رکھے ہیں وہ کسی دوسرے مذہب کے لیے ہرگز نہیں ہیں۔مگر یہ ان امورمیں مقابلہ چاہتے ہیں جو کہ عادت اللہ کے خلاف ہیں۔دوسرے خدا غلا م نہیں ہے کہ کسی کے تابع ہو بلکہ وہ خدا کے تابع ہیں۔فیصلہ کا آسان طریق ہم نے ان سے یہ چاہا ہے کہ اس طرح سے فیصلہ کر لو کہ ہزاروں اعتراض جو تم لوگ کرتے ہو ان میں سے دو اعتراض چُن لو اگر وہ سچے نکل آویں تو باقی کے تمہارے سب سچے اور اگر وہ جھوٹے نکل آویں تو باقی کے سب جھوٹے۔مگر ان لوگوں کو موت کا خوف نہیں۔اگر عقل ہو تو لازم ہے کہ وہ اسلام کے سوائے کوئی سچا پاک مذہب دکھلا دیں۔اور طلاق کی نسبت اعتراض ہے ہم کہتے ہیں کہ اچھا آج تک جس قدر طلاق اسلام میں ہوئی ہیں ان کی فہرست ہم سے لواور جس قدر نیوگ تم میں ہوا اس کی فہرست ہمیں دو۔مدارات اور مداہنہ میں فرق اس کے بعد مختلف ذکر ہوتے رہے کبھی چولہ پر کبھی کسی پر ، اثنائے گفتگو میں فرمایا کہ مدارات اسے کہتے ہیں کہ نرمی سے گفتگو کی جاوے تاکہ دوسرے کو ذہن نشین ہو اور حق کو اس