ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 315

کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے قماربازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی۔دنیا کے کا روبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔دوسرے ان تمام سوالوں میں اس اَمر کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ قر آن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں۔مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے تو اب اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر آیا ہوگا۔پھر اس طرح تو آخرکار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے گا۔خدا کا نام ستار بھی ہے ورنہ دنیامیں عام طور پر راست باز کم ہوتے ہیں۔مستورالحال بہت ہوتے ہیں۔یہ بھی قرآن میں لکھا ہے وَلَا تَجَسَّسُوْا (الـحجرات:۱۳) یعنی تجسّس مت کیا کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں پڑوگے۔(مجلس قبل ازعشاء ) پنڈت نند کشورسناتن دھرمی سے گفتگو پنڈت نند کشور صاحب جو کہ سناتن دھرم مذہب کے ایک عالم فاضل متبحر لیکچرار ہیں حضرت صاحب کی ملاقات کے واسطے تشریف لائے۔آتے ہی حضرت صاحب سے سلا م وعلیکم کیا اور مصافحہ کیا۔حضرت صاحب نے نسیم دعوت اورسناتن دھرم وغیرہ کی نسبت ان کی رائے دریافت کی۔پنڈت صاحب نے فرمایا کہ ان کتب میں آپ نے ویسے ہی لکھا ہے جیسے انبیاء کا دستور ہے خدا کے برگزیدوں سے گندے لفظ نکل ہی نہیں سکتے آریہ لوگوں کی مثال انہوں نے یہ دی کہ جیسے کھارے چشمہ سے میٹھا پانی نہیں نکل سکتا۔اسی طرح وہ لوگ لکھ ہی کیا سکتے ہیں۔حضرت اقدس نے آریہ سماج کی نسبت ذکر کیا کہ آریہ سماج یہ لوگ بالکل حقیقت ایمان سے بے نصیب ہیں۔ایمان تو عقلمندوں کی آزما ئش کے لیے ہے کہ کچھ عقل سے کام لیوے اور کچھ ایمان سے۔معجزات میں یہ عادت اللہ ہرگز نہیں ہے کہ ایسے کام دکھلائے جاویں جو کہ خدا کی عادت کے بر خلاف دنیا میں ہوں۔مثلاً سوال کرتے ہیں کہ سویا پچاس سال کے مُردہ آکر شہادت دیویں گو کہ یہ ہو تو سکتا ہے مگر سوال ہے کہ جو