ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 312

اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا کہ زمین کا پانی نہ پیا کرو۱ تو وہ ہمیشہ بارش کا پانی آسمان سے دیا کرتا اسی طرح ضرورت پر وہ خود ایسی راہ نکال ہی دیتا ہے کہ جس سے اس کی نافرمانی بھی نہ ہو۔جب تک ایمان میں میل کچیل ہوتا ہے تب تک یہ ضعف اور کمزوری ہے۔کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک خدا نہ چھڑاوے ورنہ انسان تو ہر ایک گناہ پر یہ عذر پیش کرسکتا ہے کہ ہم چھوڑ نہیں سکتے اگر چھوڑیں تو گذارہ نہیں چلتا۔دوکانداروں عطا روں کو دیکھا جاوے کہ پرانا مال سا لہا سال تک بیچتے ہیں۔دھوکا دیتے ہیں۔ملازم پیشہ لوگ رشوت خوری کرتے ہیں اور سب یہ عذرکرتے ہیں۲ کہ گذارہ نہیں چلتا۔ان سب کو اگر اکٹھا کرکے نتیجہ نکالا جاوے تو پھر یہ نکلتا ہے کہ خدا کی کتاب پر عمل ہی نہ کرو کیونکہ گذارہ نہیں چلتا۔حالانکہ مو من کے لیے خدا خود سہولت کر دیتا ہے۔یہ تمام راست بازوں کا مجرب علاج ہے کہ مصیبت اور صعوبت میں خدا خود راہ نکال دیتا ہے لوگ خدا کی قدر نہیں کرتے جیسے بھروسا ان کو حرام کے دروازے پر ہے ویسا خدا پر نہیں ہے۔خدا پر ایمان یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ اگر قدر ہو تو جی چاہے کہ جیسے اَورعجیب نسخہ مخفی رکھنا چاہتے ہیں ویسے ہی اسے بھی مخفی رکھا جاوے۔میں نے کئی دفعہ بیماریوں میں آزمایا ہے کہ پیشاب باربار آرہا ہے دست بھی لگے ہیں۔آخر خدا سے دعا کی۔صبح کو الہام ہوا۔دُعَاءُکَ مُسْتَجَابٌ اس کے بعد ہی وہ کثرت جاتی رہی اور کمزوری کی جگہ طاقت آگئی۔یہ خدا کی طاقت ہے ایسا خدا عجیب ہے کہ ان نسخوں سے بھی زیادہ قابلِ قدر ہے جو کیمیا وغیرہ کے ہوتے ہیں۔مجھے بھی ایک دفعہ خیال آیا کہ یہ تو چھپا نے کے قابل ہے پھر سوچا کہ یہ تو بخل ہے ایسی مفید شَے کو دنیا پر اظہار کرنا چاہیے کہ مخلوق الٰہی کو فائدہ حاصل ہو۔یہی فرق اسلام اور دوسرے مذاہب کے خدا میں ہے۔ان کا خدا بولتا نہیں۔خدا معلوم یہ بھی کیساایمان ہے۔اسلام کا خدا جیسے پہلے تھا ویسے ہی اب ہے۔نہ طاقت کم ہوئی نہ بوڑھا ہوا۔نہ کچھ اور نقص اس میں واقع ہوا۔ایسے خدا پر جس کا ایمان ہو وہ ۱ الحکم میں ہے۔’’اگر اللہ تعالیٰ مومن کو کہتا کہ تو زمین کا پانی نہ پیاکر تو میں ایمان رکھتا ہوں کہ اُس کو آسمان سے پانی ملتا۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱ مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ءصفحہ۶ ) ۲ الحکم سے۔’’عذر رکھ کر معصیت میں مبتلا ہونا یہ سفلی عذر ہے جو شیطان سے آتا ہے خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسا کرے تو سب کچھ ہوتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ءصفحہ۶)