ملفوظات (جلد 4) — Page 308
قرآن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے۔جب یہ آیت آئی جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيْدًا (النسآء:۴۲) آپ روئے اور فرمایا کہ بس کر میں آگے نہیں سن سکتا۔آپ کو اپنے گواہ گذرنے پر خیال گذرا ہوگا۔ہمیں خودخواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں۔آنحضرتؐنے ہر ایک کام کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہیے۔سچے مومن کے واسطے کافی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کام آنحضرت نے کیا ہے کہ نہیں۔اگر نہیں کیا تو کرنے کا حکم دیا ہے کہ نہیں؟ حضرت ابر اہیمؑ آپ کے جدّ امجد تھے اور قابلِ تعظیم تھے کیا وجہ کہ آپ نے ان کا مولود نہ کروایا؟ اشعار اور نظم پڑھنا اشعار اور نظم پر سوال ہوا تو فرمایا کہ نظم تو ہماری مجلس میں بھی سنائی جاتی ہے آنحضرتؐنے بھی ایک دفعہ ایک شخص۔۔۔خوش الحان کی تعریف سن کر اس سے چندایک اشعار سنے پھر فرمایا کہ رَحِـمَکَ اللہُ یہ لفظ آپ جسے کہتے تھے وہ جلد شہید ہی ہو جاتا۔چنانچہ وہ بھی میدان میں جاتے ہی شہید ہو گیا۔ایک صحابیؓ نے آنحضرتؐکے بعد مسجد میں شعر پڑھے۔حضر ت عمرؓ نے روکا کہ مسجدمیں مت پڑھو۔وہ غصہ میں آگیا اور کہا کہ تو کون ہے کہ مجھے روکتا ہے میں نے اسی جگہ اور اسی مسجد میں آنحضرتؐکے سامنے اشعار پڑھے تھے اور آپ نے مجھے منع نہ کیا۔حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے۔شعر کہنا ایک شخص کا اعتراض پیش ہوا کہ میرزا صاحب شعرکہتے ہیں۔فرمایاکہ آنحضرت نے بھی خود شعر پڑھے ہیں۔پڑھنا اور کہنا ایک ہی بات ہے۔پھر آنحضرتؐکے کل صحابی شاعر تھے۔حضر ت عائشہؓ، امام حسنؓاور امام حسینؓکے قصائد مشہور ہیں۔حسان بن ثابتؓنے آنحضرتؐکی وفات پر قصیدہ لکھا ہے۔سید عبد القادر صاحب نے بھی قصائد لکھے ہیں۔کسی صحابیؓ کا ثبوت نہ دے سکو گے کہ اس نے تھوڑا یا بہت شعر نہ کہا ہو مگر آنحضرتؐنے کسی کو منع نہ فرما یا۔قر آن کی بہت سی آیا ت شعروں سے ملتی ہیں۔ایک نے عرض کی کہ سورۃ شعراء میں آخیر پر شاعروں کی مذمت کی ہے۔فرمایا کہ وہ مقام پڑھو۔وہاں خدا نے فسق وفجور کرنے والے شاعروں کی مذمت کی ہے اور