ملفوظات (جلد 4) — Page 305
مولُودخوانی ایک۱ شخص نے مولودخوانی پر سوال کیا۔فرمایاکہ آنحضرتؐکا تذکرہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ اولیاء اور انبیاء کی یاد سے رحمت نازل ہوتی ہے۲ اور خودخدا نے بھی انبیاء کے تذکرے کی ترغیب دی ہے۳ لیکن اگر اس کے ساتھ ایسے بدعات مل جاویں جن سے توحید میں خلل واقع ہو تو وہ جائز نہیں۔خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان نبی کے ساتھ رکھو۔آج کل کے مولودوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہوتے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشا کے خلاف ہیں۔اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تو وہ ایک وعظ ہے۔آنحضرت کی بعثت، پیدائش اور وفات کا ذکر ہو تو موجب ثواب ہے ۴ہم مجاز نہیں ہیں کہ اپنی شریعت یاکتا ب بنا لیویں۔الحکم جلد۷نمبر۱۱کے صفحہ۵پراستفساراور اُن کے جواب کے زیر عنوان حضور علیہ السلام کے جو ملفوظات بلاتاریخ درج ہیں۔دراصل یہ ۱۵؍مارچ ۱۹۰۳ء کی ڈائری ہے کیونکہ یہ سب استفسار اور ان کے جواب البدرنے ۱۵؍مارچ کی ڈائری میں دئیے ہیں لہٰذاالحکم کے ان ملفوظات میں جو بات البدر سے زیادہ مفصل ہے وہ حاشیہ میں درج کردی ہے (مرتّب)۔۲ الحکم سے۔’’اُس سے محبت بڑھتی ہے اور آپؐ کی اِتباع کے لیے تحریک ہوتی اور جوش پیدا ہوتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵) ۳ الحکم سے۔’’ قرآن شریف میں بھی اسی لیے بعض تذکرے موجود ہیں جیسے فرمایا وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ (مریم:۴۲)۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵) ۴ الحکم سے۔’’لیکن اگر تذکروں کے بیان میں بعض بدعات ملا دی جائیں تو وہ حرام ہو جاتے ہیں۔گرحفظ مراتب نہ کنی زندیقی یہ یاد رکھو کہ اصل مقصد اسلام کا توحید ہے۔مولود کی محفلیں کرنے والوں میں آج کل دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بدعات ملالی گئی ہیں جس نے ایک جائز اور موجبِ رحمت فعل کوخراب کردیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ موجبِ رحمت ہے مگرغیر مشروع امور وبدعات منشاءِ الٰہی کے خلاف ہیں۔ہم خود اس اَمر کے مجاز نہیں ہیں کہ آپ کسی نئی شریعت کی بنیاد رکھیں اورآج کل یہی ہو رہا ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات کے موافق شریعت کو بنانا چاہتا ہے گویا خود شریعت بناتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۱۱مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۵)