ملفوظات (جلد 4) — Page 297
حفاظتیں اور خدمات اس باغ کے لیے جسمانی طورسے ہیں وہی اس توبہ کے درخت کے واسطے روحانی طور پرہیں پس اگر توبہ کے درخت کا پھل کھانا چاہوتو اس کے متعلق قوانین اور شرائط کو پورا کرو ورنہ بے فائدہ ہوگا۔یہ خیال نہ کرو کہ توبہ کرنا مَرنا ہوتا ہے۔خدا قلیل شَے سے خوش نہیں ہوتا اور نہ وہ دھوکا کھاتا ہے۔دیکھو! اگر تم بھوک کو دورکرنے کے لیے ایک لقمہ کھانے کا کھاؤ یا پیاس کے دور کرنے کے لیے ایک قطرہ پانی کا پیوتو ہرگز تمہاری مقصد براری نہ ہو گی۔ایک مرض کے دفع کرنے کے واسطے ایک طبیب جو نسخہ تجویزکرتا ہے جب تک اس کے مطابق پوراپورا عمل نہ کیا جاوے تب تک اس کے فائدہ کی امید اَمر موہوم ہے۱ اور پھر طبیب پر بھی الزام۔غلطی اپنی ہی ہے اسی طرح توبہ کے واسطے مقدار ہے اور اس کے بھی پرہیز ہیں۔بدپرہیز بیمار صحت یاب نہیں ہوسکتا۔خدا سے صلح پیدا کرو اب طاعون کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ اِنِّيْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا بِاسْتِکْبَارٍ۔دیکھو! خدا تو سب کا خداہے مگر اس کے تعلقات خاص خاص کے ساتھ خاص خاص ہیں۔جتنی جتنی۲ کوئی اس سے صلح کرتا ہے اتنا ہی وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔تم میں سے ہر ایک کو بھی آواز آسکتی ہے جو مجھے آئی اگر تم سچی تبدیلی اور اس سے صلح پیدا کرو۔خدا بخیل نہیں مگر ہاں اس نے ایک اندازہ رکھا ہوا ہے جب تک اس تک انسان نہ پہنچے تو وہ کامل نہیں ہوتا اور نہ اس پر و ہ فیض جا ری کیا جاتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شرابی کو اگر پوری مقدار شراب کی نہ دی جاوے تب تک وہ بے ہوش نہیں ہوسکتا۔اسی طرح جب اس انتہائی درجہ محبت تک ترقی نہ کی جاوے تب تک لا حاصل ہوتا ہے۔قانونِ قدرت جس طرح جسمانی چیزوں کے واسطے ہے ایسے ہی روحانی امور کے واسطے بھی ہیں۔البدر میں ہے۔’’یہی سنّت اللہ ہے کہ جب تک کوئی چیز اپنے مقررہ وزن تک استعمال نہ کی جاوے تب تک بےفائدہ ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۷ ) ۲البدر میں ہے۔’’اگر انسان خدا کی طرف آہستہ قدم چلتا ہے تو وہ تیز چل کر آتا ہے اور اگر انسان اس کی طرف تیز چلتا ہے تو وہ دوڑکر آتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۷ )