ملفوظات (جلد 4) — Page 296
ہوتے ہیں جن کا اظہاراس علیحد گی اور سسرال میں جا کر شوہر سے معاشرت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے جو طرفین کے لیے موجبِ برکت اور رحمت ہوتا ہے۔یہی حال اہل اللہ کا ہے۔ان لوگوں میں بعض خلق ایسے پوشیدہ ہوتے ہیں کہ جب تک ان پر تکالیف اور شدائد نہ آویں ان کا اظہار ناممکن ہوتا ہے۔دیکھو! اب ہم لوگ جو آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بیان کرنے میں بڑے فخر اور جرأت سے کام لیتے ہیں یہ بھی تو صرف اسی وجہ سے ہے کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم پروہ دونوں زمانے آچکے ہوئے ہیں ورنہ ہم یہ فضیلت کس طرح بیان کرتے۔دکھ کے زمانہ کو بری نظر سے نہ دیکھو یہ خدا سے لذّت کو اور اس کے قرب کو اپنی طرف کھینچتا ہے اسی لذّت کے حاصل کرنے کے واسطے جو خدا کے مقبولوں کو ملا کرتی ہے دنیوی اور سفلی کل لذّات کو طلاق دینی پڑا کرتی ہے۔خدا کا مقر ب بننے کے واسطے ضروری ہے کہ دکھ سہتے جاویں اور شکر کیا جاوے اور نئے دن ایک نئی موت اپنے اوپر لینی پڑتی ہے جب انسان دنیوی ہواوہوس اور نفس کی طرف سے بکلّی موت اپنے اوپر وارد کر لیتا ہے تب اسے وہ حیات ملتی ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔پھر اس کے بعد مَرنا کبھی نہیں ہوتا۔قرآن کا نزول بحالت غم ہوا ہے آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن شریف غم کی حالت میں نازل ہوا ہے۔تم بھی اسے غم ہی کی حالت میں پڑھا کرو۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بہت بڑا حصہ غم والم میں گذرا ہے۔توبہ کا درخت اور اس کا پھل توبہ کے درخت بو۱ لو تا تم اس کے پھل کھاؤ۔توبہ کا درخت بھی بالکل ایک باغ کے درخت کی ما نند ہے جو جو البدر میں ہے۔’’اگرتوبہ کے ثمرات چاہتے ہوتو عمل کے ساتھ توبہ کی تکمیل کرو۔دیکھو! جب مالی بوٹا لگاتا ہے پھر اس کو پانی دیتا ہے اور اس سے اس کی تکمیل کرتا ہے۔اسی طرح ایمان ایک بوٹا ہے اور اس کی آب پاشی عمل سے ہوتی ہے اس لیے ایمان کی تکمیل کے لیے عمل کی از حد ضرورت ہے۔اگر ایمان کے ساتھ عمل نہیں ہونگے تو بوٹے خشک ہو جائیں گے۔اور وہ خائب وخاسررہ جائیں گے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۷ )