ملفوظات (جلد 4) — Page 295
مصائب کی لذّت مومن کے لیے مصائب ہمیشہ نہیں رہتے اور نہ لمبے ہوتے ہیں بلکہ اس کے واسطے رحمت، محبت اور لذّت کا چشمہ جا ری کیا جاتا ہے۔عاشق لوگ عشق کے غلبہ کے وقتوں اور اس کے دردوں میں ہی لذّت پا تے ہیں۔یہ باتیں گوایک خشک محض انسان کے لیے سمجھانی مشکل ہیں مگر جنہوں نے اس راہ میں قدم مارا ہے وہ ان کو خوب جانتے ہیں بلکہ ان کو تو معمولی آرام اور آسائش میں وہ چین اور لذّت نہیں ہوتی جو دکھ کے اوقات میں ہوتی ہے۔مثنوی رومی میں ایک حکایت ہے کہ ایک مرض ایسا ہے کہ اس میں جب تک ان کو مکّے مارتے کوٹتے اور لتاڑتے رہتے ہیں تب تک وہ آرام میں رہتا ہے ورنہ تکلیف میں رہتا ہے سویہی حال اہل اللہ کا ہے کہ جب تک ان کو مصائب وشدائد کے مشکلات آتے رہیں اور ان کو مار پڑتی رہے تب تک وہ خوش ہوتے اور لذّت اٹھا تے ہیں ورنہ بے چین اور بے آرام رہتے ہیں۔مومن کے جوہرمصائب سے کھلتے ہیں اللہ تعالیٰ قادرتھا کہ اپنے بندوں کو کسی قسم کی ایذا نہ پہنچنے دیتا اور ہرطرح سے عیش وآرام میں ان کی زندگی بسر کرواتا۔ان کی زندگی شاہانہ زندگی ہوتی۔ہر وقت ان کے لیے عیش وطرب کے سامان مہیاکئے جاتے مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔اس میں بڑے اسراراور راز نہانی ہوتے ہیں۔دیکھو! ایک والدین کو اپنی لڑکی کیسی پیاری ہوتی ہے بلکہ اکثر لڑکوں کی نسبت زیادہ پیاری ہوتی ہیں مگر ایک وقت آتا ہے کہ والدین ان کو اپنے سے الگ کر دیتے ہیں وہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت کو دیکھنا بڑے جگر والوں کا کام ہوتا ہے۔۱ دونوں طرف کی حالت ہی بڑی قابلِ رحم ہوتی ہے قریباً چودہ پندرہ سال ایک جگہ رہے ہوئے ہوتے ہیں آخر ان کی جدائی کا وقت نہایت ہی رقّت کا وقت ہوتا ہے۔اس جدائی کو بھی کوئی نادان بے رحمی کہہ دے تو بجاہے مگراس لڑکی میں بعض ایسے قویٰ البدر میں ہے۔’’والدہ ایک طرف روتی ہے اور والد ایک طرف روتا ہے تا ہم وہ سب تکالیف برداشت کرکے اس کو ہمیشہ کے لئے الگ کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟وہ جانتے ہیں کہ اس لڑکی میں ایک جوہر ہے جو کہ سسرال میں جا کر ظاہر ہوگا اس لیے مومن کے جوہر بھی مصائب سے کھلتے ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۷ )