ملفوظات (جلد 4) — Page 294
ایسے لوگ صابر ہوتے ہیں اور صابروں کے واسطے خدا نے بے حساب اجر رکھے ہوئے ہیں۔۱ مُہْتَدُوْنَ سے مراد مُہْتَدُوْن سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کے منشا کو پالیا اور اس کے مطابق عمل درآمد کرنے لگ گئے۔ایسے ہی لوگ تو ولی ہوتے ہیں۔انہی کو تو لوگ قطب کہتے ہیں یہی تو غوث کہلاتے ہیں پس کوشش کرو کہ تم بھی ان مدارج عالیہ کو حاصل کرنے کے قابل ہوسکو۔خدا تعالیٰ نے تو انسان سے نہایت تنزّل کے رنگ میں دوستانہ برتاؤ کیا ہے۔دوستانہ تعلق کیا ہوتا ہے یہی کہ کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی بات کو مان لیتا ہے اور کبھی دوسرے سے اپنی بات منواناچاہتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہے چنانچہ اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المومن: ۶۱) اور اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ١ؕ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔۔۔۔الآیۃ (البقرۃ:۱۸۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان کی بات کو مان لیتا ہے اور اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے اور دوسری جگہ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْابِيْ۔۔۔۔الآیۃ سے اور وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔بعض لوگ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہماری دعا کو قبول نہیں کرتا یا اولیاء لوگوں پر طعن کرتے ہیں کہ ان کی فلاں دعا قبول نہیں ہوئی۔اصل میں وہ نادان اس قانون الٰہی سے نا آشنا محض ہوتے ہیں۔جس انسان کو خدا سے ایسا معاملہ پڑاہوگا وہ خوب اس قاعدہ سے آگا ہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے مان لینے کے اور منوانے کے دونمونے پیش کئے ہیں۔انہی کو مان لینا ایمان ہے تم ایسے نہ بنوکہ ایک ہی پہلو پر زور دو۔ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کرکے اس کے مقررہ قانون کو توڑنے کی کوشش کرنے والے بنو۔۲ ۱البدر میں مزید یوں لکھا ہے۔’’یہی تکالیف جب رسولوں پر آتی ہیں تو اُن کو انعام کی خو شخبری دیتی ہیں اور جب یہی تکالیف بدوں پر آتی ہیں اُن کو تباہ کردیتی ہیں۔غرض مصیبت کے وقت قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (البقرۃ:۱۵۷) پڑھنا چاہیے کہ تکالیف کے وقت خدا تعالیٰ کی رضا طلب کرے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۷ ) ۲البدر میں لکھا ہے۔’’مومن کو مصیبت کے وقت میں غمگین نہیں ہونا چاہیے۔وہ نبی سے بڑھ کر نہیں ہوتا۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۷ )