ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 293

قرب میں عزّت پا تے۔کیاان کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیٹا کہلا نے کا فخر بس تھا؟ اور ان کے واسطے یہی کافی تھا؟ نہیں اس سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منع فرمایا تھا۔اس سے کوئی حق قربِ الٰہی نہیں ہوسکتا تھا۔غرض ان کی اپنی تو ایسی بظاہر کوئی کارنمائی نہ تھی جس سے وہ ان درجات اعلیٰ کے وارث یا حقدار ہوتے مگر چونکہ ان کو آنحضر ت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قسم کا تعلق تھا۔اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ آنحضر ت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کا تعلق رکھنے والے کو ضائع کرے۱ سو ان کے واسطے ایسے ایسے ساما ن میسّر کر دیئے کہ وہ خدا کی راہ میں شہادت پا نے کے قابل ہو گئے اور اس طرح وہ سابقین کے ساتھ مل گئے جن کے حالات سے وہ محض نا واقف تھے۔ایک ذراسی تکلیف اور اجر عظیم مل گیا۔شیعہ کیا بیوقوف ہیں، اس حکمت الٰہی کی طرف تو غور نہیں کرتے اور الٹا روتے ہیں کہ ان کوشہیدکر دیا۔ابتلا پر صبر کا اجر پس تم مومن ہونے کی حالت میں ابتلا کو بُرا نہ جانو اور بُرا وہی جانے گا جو مومن کامل نہیں ہے قرآن شریف فرماتا ہے کہ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ(البقرۃ:۱۵۶،۱۵۷) خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کبھی تم کو مال سے یا جان سے یا اولاد یا کھیتوں وغیرہ کے نقصان سے آزمایا کریں گے مگر جو ایسے وقتوں میں صبر کرتے اور شاکر رہتے ہیں تو ان لوگوں کو بشارت دوکہ ان کے واسطے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کشادہ اور ان پر خدا کی برکتیں ہوں گی جو ایسے وقتوں میں کہتے ہیں اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ یعنی ہم اور ہمارے متعلق کل اشیاء یہ سب خدا ہی کی طرف سے ہیں اور پھر آخر کاران کا لوٹنا خدا ہی کی طرف ہے کسی قسم کے نقصان کا غم ان کے دل کو نہیں کھاتا اور وہ لوگ مقامِ رضا میں بودوباش رکھتے ہیں۔البدر میں مزید یوں لکھا ہے۔’’اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اس طرح گمنام فوت نہ ہوں۔اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اُن کو شہادت کی موت سے وفات دی تاکہ وہ دنیا میں قیامت تک نیک نام مشہور ہو جاویں۔اگر ان پر یہ مصائب نہ آتے تو وہ کس طرح مشہور ہوتے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۷ )