ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 287

سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت؟ دعا کی حاجت تو اسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اس دَر کے نہ ہو اسی کے دل سے دعا نکلتی ہے۔غرض رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا۔۔۔۔الـخ ایسی دعا کرنا صرف انہیں لوگوں کا کام ہے جو خداہی کو اپنا رب جان چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سا رے اربابِ با طلہ ہیچ ہیں۔آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہو گی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پاتا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہیں۔تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے طرح طرح کے عذاب خو ف، خون، فقر و فا قے، امراض، ناکامیاں، ذلّت وادبار کے اند یشے، ہزاروں قسم کے دکھ، اولاد، بیوی وغیرہ کے متعلق تکا لیف اور رشتہ داروں کے ساتھ معاملات میں الجھن۔غرض یہ سب آگ ہیں۔تو مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لیے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ۔سچی توبہ ایک مشکل اَمر ہے۔بجز خد اکی توفیق اور مددکے توبہ کرنا اور اس پر قائم ہو جانا محال ہے۔توبہ صرف لفظوں اور باتوں کا نام نہیں۔دیکھو! خدا قلیل سی چیز سے خوش نہیں ہو جاتا۔کوئی ذرا سا کام کرکے خیال کر لینا کہ بس اب ہم نے جو کرنا تھا کر لیا اور رضا کے مقام تک پہنچ گئے یہ صرف ایک خیال اور وہم ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک با دشا ہ کو ایک دانہ دے کر یا مٹی کی مٹھی دے کر خوش نہیں کرسکتے بلکہ اس کے غضب کے مو ردبنتے ہیں تو کیا وہ احکم الحاکمین اور بادشاہوں کا بادشاہ ہماری ذرا سی ناکارہ حرکت سے یا دو لفظوں سے خوش ہوسکتا ہے ۱ خدا تعالیٰ پو ست کو پسند نہیں کرتا وہ مغز چاہتا ہے۔البدر میں ہے۔’’میری جماعت کو یادرکھنا چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو دھوکا نہ دے۔خدا تعالیٰ ایک ناکارہ چیز کو پسند نہیں کرتا۔دیکھو! اگر ایک شخص دُنیوی بادشاہ کے پاس نکمّی سی چیز ہدیہ کے طور پر لے جاتا ہے تو اگرچہ وہ اس کو لے جاسکتا ہے مگر وہ ایسے فعل سے بادشاہ کی ہتک کرتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۶۶)