ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 288

شرک کی حقیقت دیکھو! خدا یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاوے۔بعض لوگ اپنے شر کاءِ نفسانی کے واسطے بہت ساحصہ رکھ لیتے ہیں اور پھر خدا کا بھی حصہ مقرر کرتے ہیں۔سوایسے حصہ کو خدا قبو ل نہیں کرتا وہ خا لص حصہ چاہتاہے۔اس کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک بنانے سے زیادہ اس کو غضبناک کرنے کا اور کوئی آلہ نہیں ہے۔ایسا نہ کرو کہ کچھ تو تم میں تمہارے نفسانی شر کاء کا حصہ ہو اور کچھ خدا کے واسطے۔خدا تعالیٰ کہتاہے کہ میں سب گناہ معاف کروں گا مگر شرک نہیں معاف کیا جاوے گا۔یا درکھو شرک یہی نہیں کہ بتوں اور پتھروں کی تراشی ہوئی مو رتوں کی پو جا کی جاوے۔یہ تو ایک موٹی بات ہے یہ بڑے بیوقوفوں کا کام ہے دا نا آدمی کو تو اس سے شرم آتی ہے۔شرک بڑا بار یک ہے وہ شرک جو اکثر ہلاک کرتا ہے وہ شرک فی الاسباب ہے یعنی اسباب پر اتنا بھروسا کرنا کہ گویا وہی اس کے مطلوب ومقصودہیں جو شخص دنیا کو دین پر مقدم رکھتا ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس کو دنیا کی چیزوں پر بھر وسہ ہوتا ہے اور وہ امید ہوتی ہے جو دین و ایمان سے نہیں۔نقد فا ئدہ کو پسند کرتے ہیں اور آخرت سے محروم۔جب وہ اسباب پر ہی اپنی ساری کامیابیوں کا مدار خیال کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود کو تو اس وقت وہ لغو محض اور بے فائدہ جانتا ہے اور تم ایسا نہ کرو۔تم تو کل اختیار کرو۔توکّل تو کّل یہی ہے۱ کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی اَمر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو۔اور پھر خود دعائوں میں لگ جائوکہ خدا تو ہی اس کا انجام بخیر کر۔صدہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کوبھی برباد و تہ وبالا کرسکتے ہیں۔ان کی دست بُرد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔حقیقت توبہ توبہ کے معنی ہی یہ ہیں کہ گناہ کو ترک کرنا اور خدا کی طرف رجوع کرنا۔بدی چھوڑ کر نیکی کی طرف آگے قدم بڑھانا۔توبہ ایک موت کو چاہتی ہے جس کے بعد البدر میں ہے۔’’ توکّل ایک طرف سے توڑ اور ایک طرف جوڑکا نام ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۹ مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۶)