ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 286

کی طرف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درداور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔ربّ کہتے ہیں بتد ریج کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو۔اصل میں انسان نے اپنے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہوتے ہیں اپنے حیلوں اور دغا بازیوں پر اسے پورا بھروسا ہوتا ہے تو وہی اس کے رب ہیں۔اگر اسے اپنے علم کا یا قوتِ بازو کا گھمنڈہے تو وہی اس کے رب ہیں۔اگر اسے اپنے حسن یا مال ودولت پر فخر ہے تو وہی اس کا رب ہے غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔جب تک ان سب کو ترک کرکے ان سے بیزار ہو کے اس واحد لاشریک سچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور رَبَّنَا کی پُر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اس کے آستا نہ پر نہ گرے۔تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا۔پس جب ایسی دلسوزی اور جاں گدازی سے اس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کرکے توبہ کرتا اورا سے مخاطب کرتا ہے کہ رَبَّنَا یعنی اصلی اور حقیقی ربّ تو تُو ہی تھا مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھرتے رہے۔اب میں نے ان جھوٹے بتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے اور صدق دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں۔تیر ے آستانہ پر آتا ہوں۔غرض بجزاس کے خدا کو اپنا ربّ بنانا مشکل ہے جب تک انسان کے دل سے دوسرے ربّ اور ان کی قدرومنزلت وعظمت و وقارنکل نہ جاوے تب تک حقیقی ربّ اور اس کی ربوبیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھاتا۔بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا ربّ بنایا ہوا ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے بدوں گذارہ ہی مشکل ہے بعض چوری و راہزنی اور فریب دہی ہی کو اپنا ربّ بنائے ہوئے ہیں۔ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا ان کے واسطے کوئی رزق کا راہ ہی نہیں۔سو ان کے ارباب وہ چیزیں ہیں۔دیکھو! ایک چو ر جس کے پاس سا رے نقب زنی کے ہتھیار موجود ہیں اور رات کا موقع بھی اس کے مفید مطلب ہے اور کوئی چوکیدار وغیرہ بھی نہیں جاگتا ہے تو ایسی حالت میں وہ چوری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جانتا ہے جس سے اس کا رزق آسکتا ہے؟ وہ اپنے ہتھیاروں کو ہی اپنا معبود جانتا ہے۔غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسا ہوتا ہے ان کو خدا