ملفوظات (جلد 4) — Page 285
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۵ جلد چهارم آپ لوگوں کی یہ بیعت۔ بیعت تو بہ ہے لے تو بہ دو طرح سے ہوتی ہے ایک تو گذشتہ گنا ہوں سے یعنی ان کی اصلاح کرنے کے واسطے جو کچھ پہلے غلطیاں کر چکا ہے ان کی تلافی کرے اور حتی الوسع ان بگاڑوں کی اصلاح کی کوشش کرنا اور آیندہ کے گناہوں سے باز رہنا اور اپنے آپ کو اس آگ سے بچائے رکھنا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ توبہ سے تمام گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ وہ تو بہ تو بہ صدق دل اور خلوص نیت سے ہو اور کوئی پوشیدہ دغا بازی دل کے کسی کو نہ میں پوشیدہ نہ ہو۔ وہ دلوں کے پوشیدہ اور مخفی رازوں کو جانتا ہے وہ کسی کے دھوکا میں نہیں آتا پس چاہیے کہ اس کو دھوکا دینے کی کوشش نہ کی جاوے اور صدق سے نہ نفاق سے اس کے حضور توبہ کی جاوے۔ تو بہ انسان کے واسطے کوئی زائد یا بے فائدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اثر صرف قیامت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اس سے انسان کی دنیا و دین دونوں سنور جاتے ہیں ۔ اور اسے اس جہان میں اور آنے والے جہان میں دونوں میں آرام اور سچی خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔ ہے دیکھو! ! قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( البقرۃ : ۲۰۲) اے ہمارے رب ہمیں اس دنیا میں بھی آرام و آسائش کے سامان عطا فرما اور آنے والے جہان میں بھی آرام اور راحت عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ دیکھو! در حقیقت ربَّنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک بار یک اشارہ ہے کیونکہ رہنا کا لفظ چاہتا ہے ہے کہ وہ بعض اور ربوں کو جو اس نے پہلے بنائے ہوئے تھے ان سے بے زار ہو کر اس ربّ دو ل البدر میں یوں لکھا ہے۔ ” بیعت دراصل تو یہ ہوتی ہے اور بیعت کے دوجز ہیں ۔ اوّل۔ پچھلے گنا ہوں سے معافی مانگتے ہیں۔ دوم ۔ بیعت میں آئندہ گناہوں سے بچنے کے لیے وعدہ کیا جاتا ہے ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۶) البدر میں ہے۔ ” تو بہ ایک ایسی چیز ہے جو اس جہان میں بھی اپنا پھل لاتی ہے اور آخرت میں بھی “ البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۶ ) سے البدر میں ہے۔ ” قرآن کریم میں جہان لفظ رب آتا ہے اس کے معنے کا تعلق تو بہ سے ہوتا ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۶)