ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 283

۹ ؍ما رچ ۱۹۰۳ء (دورانِ سیر ) وبا زدہ علا قہ میں ما مو ر یا نبی کے جانے کی تعبیر ایک شخص کی خوا ب پر فرمایا کہ معبرین نے لکھا ہے کہ اگر وبا ئی جگہ پر کوئی مامور یا نبی گیا ہوا دیکھا جاوے تو جاننا چاہیے کہ وہاں آرام ہوگا کیونکہ وہ لوگ خدا کی رحمت ساتھ لاتے ہیں۔ایک رئویا پھر فرمایا کہ رات کو میں نے ایک خواب دیکھی کہ ایک شخص نے مجھے ایک پروانہ دیا ہے وہ لمبا سا کاغذ ہے میں نے پڑھا تو لکھاہوا تھا کہ عدالت سے چار جگہ کے لیے طاعون کا حکم جاری کیا گیا ہے۔اس پروانے سے پایا جاتا تھاکہ اس کا اجرا میں نے کیا ہے جیسے کاغذات محافظ دفتر کے پاس ہوتے ہیں ویسے ہی وہ میرے پاس ہے میں نے کہا کہ یہ حکم ایک عرصہ سے ہے اور اس کی تعمیل آج تک نہ ہوئی؟ اب میں اس کا کیا جواب دوں گا۔اس سے مجھے ایک خوف طاری ہوا اور تمام رات میں اسی خدشہ میں رہا اور اس پر روشن خط میں لفظ طاعون کا لکھا تھا گویا حکم میرے نام آتا ہے اور میں جاری کرتا ہوں پھر میں نے دیکھا کہ اپنی جماعت کے چند آدمی کُشتی کر رہے ہیں میں نے کہا آئو میں تم کو ایک خواب سنائوں مگر وہ نہ آئے۔میں نے کہا کیوںنہیں سنتے جو شخص خدا کی باتیں نہیں سنتا وہ دوزخی ہوتا ہے۔التحیات میں انگشت سبابہ اُٹھانے کی حکمت ایک شخص نے سوال کیا کہ التحیات کے وقت نماز میں انگشت سبابہ کیوں اُٹھاتے ہیں؟ فرمایا کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں گالیوں کے واسطے یہ اُنگلی اُٹھایا کرتے تھے اس لیے اس کو سبابہ کہتے ہیں یعنی گالی دینے والی۔خدا تعالیٰ نے عرب کی اصلاح فرمائی اور وہ عادت ہٹاکرفرمایا کہ خدا کوواحد لا شریک کہتے وقت یہ اُنگلی اُٹھایا کرو تا کہ اس سے وہ الزام اُٹھ جاوے۔ایسے ہی عرب