ملفوظات (جلد 4) — Page 21
والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اگر وہ پہلے ہی دن سارے نشان ظاہر کر دے تو پھر ایمان کا کوئی ثواب اور نتیجہ ہی نہ ہو۔عرفان آکر یقین سے تو بھر دیتا ہے مگر اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ ان ساری ترقیوں کی جڑ ایمان ہی ہے۔اسی کے ذریعہ سے انسان بڑی بڑی منزلیں طے کرتا اور سیر کرتا ہے۔سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ(بنیٓ اسـرآءیل: ۲) سے یہی پایا جاتا ہے کہ جب کامل معرفت ہوتی ہے تو پھر اس کو عجیب و غریب مقامات کی سیر کرائی جاتی ہے اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو ادب سے اپنی خواہشوں کو مخفی رکھتے ہیں۔تمام منہاج نبوت اسی پر دلالت کرتا ہے۔پہلے نشان بھی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ ابتلا ہوتے ہیں۔صدیقی فطرت حاصل کریں پس صدیقی فطرت حاصل کرنی چاہیے۔انہوں۱ نے کون سا نشان مانگا تھا۔شام سے مکہ کو آرہے تھے۔راستہ ہی میں خبر ملی۔وہیں یقین لے آئے۔اس کی وجہ وہ معرفت تھی جو آپ کی تھی۔معرفت بڑی عمدہ چیز ہے۔جب انسان کسی کے حالات اور چال چلن سے پورا واقف ہو تو اس کو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔ایسے لوگوں کو معجزہ اور نشان کی کوئی حاجت ہی نہیں ہوتی۔حضرت ابو بکر صدیق آپ کے حالات سے پورے واقف تھے۔اس لئے سنتے ہی یقین کر لیا۔تقویٰ اختیار کریں فرمایا۔ہمیں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے مامور کیا ہے۔وہ یہی ہے کہ تقویٰ کا میدان خالی پڑا ہے تقویٰ ہونا چاہیے نہ یہ کہ تلوار اٹھائو، یہ حرام ہے۔اگر تم تقویٰ کرنے والے ہوگے تو ساری دنیا تمہارے ساتھ ہوگی۔پس تقویٰ پیدا کرو۔جو لوگ شراب پیتے ہیں یا جن کے مذہب کے شعائر میں شراب جزواعظم ہے ان کو تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔وہ لوگ نیکی سے جنگ کر رہے ہیں۔پس اگر اﷲ تعالیٰ ہماری جماعت کو ایسی خوش قسمت دے اور انہیں توفیق دے کہ وہ بدیوں سے جنگ کرنے والے ہوں اور تقویٰ اور طہارت کے ۱ مراد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ