ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 275

دیکھو! اگر کسی ماں کا بچہ گم ہو جاوے اور رات کا وقت ہو تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے۔جُوں جُوں رات زیادہ ہو گی اور اندھیرابڑھتا جاوے گا اس کی حالت دگر گوں ہوتی جاوے گی گویا زندہ ہی مَر گئی ہے مگر جب اچانک اسے اس کا فرزند مل جاوے تو اس کی وہ حالت کیسی ہوتی ہے۔ذرا مقابلہ کرکے تو دیکھو، پس صرف ایسی محبت ذاتی اور ایمان کامل سے ہی انسان دارالامان میں پہنچ سکتا ہے۔سارے رسول خدا تعالیٰ کو اس لیے پیارے نہ تھے کہ ان کو الہامات ہوتے ہیں ان کے واسطے مکاشفات کے دروازے کھولے گئے ہیں، نہیں بلکہ ان کی ذاتی محبت کی وجہ سے وہ ترقی کرتے کرتے خدا کے معشوق اور محبوب بن گئے تھے۔اسی واسطے کہتے ہیں کہ نبی کی نبوت سے اس کی ولایت افضل ہے۔اسی لیے ہم نے اپنی جماعت کو بارہا تاکید کی ہے کہ تم کسی چیز کی بھی ہوس نہ رکھو۔پاک دل اور بے طمع ہو کر خدا کی محبت ذاتی میں ترقی کرو۔جب تک ذاتی محبت نہیں تب تک کچھ بھی نہیں۔مگر جو کہتے ہیں کہ ہم کو خدا سے ذاتی محبت ہے اور اس کے نشان ان میں نہیں پائے جاتے یہ ان کا دعویٰ غلط ہے۔کیا وجہ ہے کہ ایک مجازی عاشق میں تو عشق کے آثار اور نشانات کھلے کھلے پائے جائیں بلکہ کہتے ہیں کہ عشق چھپائے سے چھپ نہیں سکتا تو کیا وجہ کہ روحانی عشق پوشیدہ رہ جائے۔اس کے کچھ نشان ظاہر نہ ہوں۔دھوکا کھا تے ہیں ایسے لوگ، ان میں محبت ہی نہیں ہوتی۔صحبت صادقین اختیارکرو اسی واسطے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ یعنی صادق لوگوں کے ساتھ معیّت اختیارکرو۔ان کی صحبت میں مدّتہائے دراز تک رہو۔کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی شخص چند روز ان کے پاس رہ جاوے اور ان ایا م میں حکمت الٰہی سے کوئی ایسا اَمر واقع نہ ہو کیونکہ ان لوگوں کے اپنے اختیار میں تو نہیں کہ جب چاہیں کوئی نشان دکھاویں۔اسی واسطے ضروری ہے کہ ان کی صحبت میں لمبے عرصہ اور دراز مدّت گذر جاوے بلکہ نشان دکھانا تو درکنار یہ لوگ تو اپنے خدا کے ساتھ کے تعلقات کا اظہار بھی گناہ جانتے ہیں۔لکھا ہے کہ اگر کوئی ولی خلو ت میں اپنے خدا کے ساتھ خاص حالت اور تعلق کے جوش میں ہو اور اس پر وہ حالت طاری ہو تو ایسے وقت میں اگر کوئی شخص اس کے اس حال سے آگاہ ہو جائے تو وہ ولی شخص ایسا شرمندہ اور پسینہ پسینہ ہو جاتا ہے جیسے کوئی زانی عین زنا کی حالت میں پکڑا جاوے کیونکہ یہ لوگ اپنے راز کو