ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 276

پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔چونکہ طبعاً ایسا معاملہ تھا خدا نے اسی واسطے کہا كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ کفار نے جو یہ کہا تھا کہ مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ (الفرقان:۸) تو انہوں نے بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حالت دیکھ کر ہی یہ کلمہ منہ سے نکالا تھا کہ کیا ہے جی! یہ تو ہمارے جیسا آدمی ہی ہے۔کھاتا پیتا بازاروں میں پھرتا ہے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا فیض نہ تھا کہ ان کو کوئی رسالت کا اَمر نظر آتا وہ معذور تھے انہوں نے جو دیکھا تھا اسی کے مطابق رائے زنی کر دی۔پس اس واسطے ضروری ہے کہ مامور من اللہ کی صحبت میں دیر تک رہا جاوے۔ممکن ہے کہ کوئی جس نے نشان کوئی نہ دیکھا ہو کہہ دے کہ اجی ہماری طرح نماز روزہ کرتا ہے اور کیا ہے۔دیکھو! حج کے واسطے جانا خلوص اور محبت سے آسان ہے مگر واپسی ایسی حالت میں مشکل۔بہت ہیں جو وہاں سے نامراد اور سخت دل ہو کر آتے ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ وہاں کی حقیقت ان کو نہیں ملتی۔قشر کو دیکھ کر رائے زنی کرنے لگ جاتے ہیں وہاں کے فیوض سے محروم ہوتے ہیں اپنی بدکاریوں کی وجہ سے اور پھر الزا م دوسروں پر دھرتے ہیں۔اس واسطے ضروری ہے کہ مامور کی خدمت میں صدق اور استقلال سے کچھ عرصہ ر ہا جاوے تاکہ اس کے اندرونی حالات سے بھی آگاہی ہو اور صدق پُورے طور پر نورانی ہوجاوے۔۱ سناتن دھرم ہندوؤں کا ذکر چل پڑا۔فرمایاکہ یہ جو میں نے ایک اور رسالہ لکھا ہے اس کا نام سناتن دھرم ہی رکھا ہے یہ لوگ اسلام کے بہت ہی قریب ہیں۔اگر زوائد کو چھوڑ دیں۔بلکہ میں نے ان سے سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ جب یہ جوگی ہو کر خدا کے بہت قریب ہو جاتے ہیں تو اس وقت بُت پرستی کو حرام جانتے ہیں۔ابتدا میں صرف تمثیلی طور پر بُت پرستی انہوں نے غلطی سے رکھ لی لیکن اعلیٰ مر اتب پر پہنچ کر اسے اس لیے چھو ڑدیتے ہیں کہ قریب ہو کر پھر بعید نہ ہوں اور اس حالت میں جو مَرتا ہے اسے جلاتے بھی نہیں بلکہ دفن کرتے ہیں۔۱ الحکم جلد ۷نمبر۱۰ مورخہ۱۷مارچ۱۹۰۳ء صفحہ۲تا۴