ملفوظات (جلد 4) — Page 274
کا حق ادا کیا جاوے۔الہامات و مکاشفات کی خواہش کرنا کمزوری ہے۔مَرنے کے وقت جو چیز انسان کو لذّت دِہ ہو گی وہ صرف خدا تعالیٰ کی محبت اور اس سے صفائی معاملہ اور آگے بھیجے ہوئے اعمال ہوں گے جوایمان صادق اور ذاتی محبت سے صادر ہوئے ہوئے ہوں گے مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔اصل میں جو عاشق ہوتا ہے آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ معشوق بن جاتا ہے کیونکہ جب کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی توجہ بھی اس کی طرف پھرتی ہے اور آخر کار ہوتے ہوتے کشش سے وہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے اور عاشق معشوق کا معشوق بن جاتا ہے۔جب جسمانی اور مجازی عشق ومحبت کا یہ حال ہے کہ ایک معشوق اپنے عاشق کا عاشق بن جاتا ہے تو کیا روحانی رنگ میں جو اس سے زیادہ کامل ہے ایسا ممکن نہیں کہ جو خدا سے محبت کرنے والا ہو آخر کار خدا اس سے محبت کرنے لگے اور وہ خدا کا محبوب بن جاوے۔مجازی معشوقوں میں تو ممکن ہے کہ معشوق کو اپنے عاشق کی محبت کا پتا نہ لگے مگر وہ خدا تعالیٰ علیم بذاتِ الصدور ہے اس سے انسان مظہر کر اماتِ الٰہی اور موردِ عنایات ایزدی ہوجاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی چا در میں مخفی ہو جاتا ہے۔ان مکاشفات اور رؤیا اور الہامات کی طرف سے توجہ پھیر لو اور ان امور کی طرف تم خود بخود جرأت کرکے درخواست نہ کرو ایسا نہ ہو کہ جلد بازی کرنے والے ٹھہر و۔اکثر لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسا ورد وظیفہ بتا دوکہ جس سے ہمیں الہامات اور مکاشفات ہونے شروع ہو جاویں مگر میں ان کو کہتا ہوں کہ ایسا کرنے سے انسان مشرک بن جاتا ہے شرک یہی نہیں کہ بتوں کی پو جا کی جاوے بلکہ سخت شرک اور بڑامشکل مرحلہ تو نفس کے بُت کو توڑنا ہوتا ہے۔تم ذاتی محبت خر ید واور اپنے اندروہ قلق وہ سو زش وہ گداز وہ رقّت پیدا کرو جو ایک عاشق صادق کے اندر ہوتی ہے۔دیکھو! کمزورایمان جو طمع یا خوف کے سہارا پر کھڑاہو وہ کام نہیں آتا۔بہشت کی طمع یا دوزخ کا خو ف وغیرہ امور پر ا پنے ایمان کا تکیہ نہ لگاؤ۔بھلا کبھی کسی نے کوئی عاشق دیکھا ہے کہ وہ معشوق سے کہتا ہو کہ میں تو تجھ پر اس واسطے عاشق ہوں کہ تو مجھے اتنا روپیہ یا فلاں شَے دے دے، ہرگز نہیں۔دیکھو! ایسی طبعی محبت پیدا کر لو جیسے ایک ماں کو اپنے بچہ سے ہوتی ہے۔ماں کو نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کیوں بچہ سے محبت کرتی ہے۔اس میں ایک طبعی کشش اور ذاتی محبت ہوتی ہے۔