ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 273

کے ایسے درجہ کو پہنچ گیا ہوں کہ اب عاشق کہلا سکوں تب تک پیچھے ہرگز نہ ہٹے۔قدم آگے ہی آگے رکھتا جاوے اور اُس جام کو منہ سے نہ ہٹائے۔اپنے آپ کو اس کے لیے بے قرار و شیدا و مضطرب بنالو۔اگر اس درجہ تک نہیں پہنچے تو کوڑی کے کام کے نہیں۔ایسی محبت ہوکہ خدا کی محبت کے مقابل پر کسی چیز کی پرواہ ہو نہ کسی قسم کی طمع کے مطیع بنو اور نہ کسی قسم کے خوف کا تمہیں خوف۱ ہوچنانچہ کسی کا شعر ہے کہ ؎ آن کس کہ تراشناخت جان را چہ کُند فرزند و عیال و خانمان را چہ کُند دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی دیوانہ تو ہر دو جہان را چہ کُند مَیں تو اگر اپنے فرزندوں کا ذکر کرتا ہوں تو نہ اپنی طرف سے بلکہ مجھے تو مجبوراً کرنا پڑتا ہے۔کیا کروں اگر اس کے انعامات کا ذکر نہ کروں تو گنہ گار ٹھہروں۔چنانچہ ہر لڑکے کی پہلے اُسی نے خود اپنی طرف سے بشارت دی۔اب میں کیا کروں۔غرض انسان کا اصل مدعا صرف یہی چاہیے کہ کسی طرح خدا کی رضا مل جاوے۔مدار نجات نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم ۲ مدارِ نجات صرف یہی اَمر ہے کہ سچا تقویٰ اور خدا کی خوشنودی اور خالق کی عبادت ۱ البدرسے۔’’پس یہ تعلق محبت ایک چیزہے جوکہ میں چاہتا ہوں کہ یہ ہماری جماعت میں زیادہ ہوـــــ جب تک انسان محسوس نہ کرے کہ وہ محبت جس کانام عشق ہے اس نے اسے بے قرار کردیا ہے تب تک اس نے کچھ نہیں پایا۔ہزارہا کشوف وغیرہ ہوں کچھ شَے نہیں ہیں۔ہم تو ایک دمڑی کو نہیں خرید تے کیاعمدہ کہاہے۔؎ آن کس کہ تراشناخت جان را چہ کُند فرزند و عیال و خانمان را چہ کُند مَیں جو کبھی فرزندوں کا ذکر کیا کرتا ہوں یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اتفاقی طور پراُن کا ذکر پیشگوئیوں میں آگیاہوا ہے ورنہ مجھے اس بات کی کچھ آرزواور ہوس نہیں ہوتی۔،، (البدر جلد ۲نمبر ۸ مورخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۱ ) ۲البدر میں اس کا پہلا مصرعہ بھی لکھا ہے۔؎ من ذرّہ ز آفتابم ہم از آفتاب گویم نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم (البدر جلد ۲نمبر ۸ مورخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ