ملفوظات (جلد 4) — Page 272
کے خیالات اضطراب کا وسوسہ ڈالتے ہیں مگر ایمان ان وساوس کو دور کر دیتا ہے بشریت اضطراب خریدتی ہے اور ایمان اس کو دفع کرتا ہے۔ایمان وعرفان کی حقیقت دیکھو! ایمان جیسی کوئی چیز نہیں۔ایمان سے عرفان کا پھل پیدا ہوتا ہے۔ایمان تو مجاہدہ اور کوشش کو چاہتا ہے اورعرفان خدا تعالیٰ کی موہبت اور انعام ہوتا ہے عرفان سے مراد کشوف اور الہامات جو ہر قسم کی شیطانی آمیزش اور ظلمت کی ملونی سے مبرّا ہوں اور نور اور خدا کی طرف سے ایک شوکت کے ساتھ ہوں وہ مراد ہیں۔اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی طرف سے موہبت اور انعام ہوتا ہے۔یہ چیز کچھ کسبی چیز نہیں مگر ایمان کسبی چیز ہوتا ہے اسی واسطے اوامر ہیں کہ یہ کرو۔غرض ہزاروں احکام ہیں اور ہزاروں نواہی ہیں۔ان پر پوری طرح سے کار بند ہونا ایمان ہے۔غرض ایمان ایک خدمت ہے جو ہم بجالاتے ہیں اورعرفان اس پر ایک انعام اور موہبت ہے۔انسان کو چاہیے کہ خدمت کئے جاوے۔آگے انعام دینا خدا کا کام ہے یہ مومن کی شان سے بعید ہونا چاہیے کہ وہ اس انعام کے واسطے خدمت کرے۔خد اکی محبت میں محو ہو جائو مکاشفات اورالہامات کے ابواب کے کھلنے کے واسطے جلدی نہ کرنی چاہیے اگر تمام عمر بھی کشوف اور الہامات نہ ہوں تو گھبرانا نہ چاہیے اگر یہ معلوم کر لو کہ تم میں ایک عاشقِ صادق کی سی محبت ہے جس طرح وہ اس کے ہجر میں اس کے فراق میں بھو کا مَرتا ہے پیاس سہتا ہے نہ کھانے کا ہوش ہے نہ پانی کی پروا، نہ اپنے تن بدن کی کچھ خبر۔اسی طرح تم بھی خدا کی محبت میں ایسے محو ہوجائو کہ تمہارا وجود ہی درمیان سے گم ہوجاوے۔پھر اگر ایسے تعلق میں انسان مَر بھی جاوے تو بڑا ہی خوش قسمت ہے۔ہمیں تو ذاتی محبت سے کام ہے نہ کشوف سے غرض نہ الہام کی پروا۔دیکھو! جس طرح ایک شرابی شراب کے جام کے جام پیتا ہے اور لذّت اٹھاتا ہے اسی طرح تم اس کی ذاتی محبت کے جام بھر بھر پیو۔جس طرح وہ دریا نوش ہوتا ہے اسی طرح تم بھی کبھی سیر نہ ہونے والے بنو۔جب تک انسان اس اَمر کو محسوس نہ کر لے کہ میں محبت