ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 20

تباہ ہو جاتے ہیں۔پیشگوئیوں کے اسرار پیشگوئیوں کے متعلق فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے اور اس کا کلام بہرحال سچا ہے۔ہاںیہ ہوتا ہے کہ کبھی وہ جسمانی رنگ میں پوری ہوتی ہیں کبھی روحانی رنگ میں۔اور منہاجِ نبوت میں اس کے نظائر موجود ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھاکہ کچھ گائیں ذبح ہوتی ہیں تو وہ صحابہ کا ذبح ہونا تھا۔اور آپ نے دیکھا کہ سونے کے کڑے پہنے ہوئے ہیں جو پھونک مارنے سے اُڑگئے۔اس سے مراد جھوٹے پیغمبر تھے۔پس خد اکا کلام کسی نہ کسی رنگ میں ضرور سچا ہے۔جماعت کے ازدیادِ ایمان کے لئے نشانات کا ظہور فرمایا۔اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ ہماری جماعت کا ایمان کمزور رہے۔مہمان اگر نہ بھی چاہے تو بھی میزبان کا فرض ہے کہ اس کے آگے کھانا رکھ دے۔اسی طرح پر اگرچہ نشانوں کی ضرورت کوئی بھی نہ سمجھے تب بھی اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کے ایمان کو بڑھانے کے لئے نشانات ظاہر کر رہا ہے۔یہ بھی سچی بات ہے کہ جو لوگ اپنے ایمان کو نشانوں کے ساتھ مشروط کرتے ہیں وہ سخت غلطی کرتے ہیں۔حضرت مسیحؑ کے شاگردوں نے مائدہ کا نشان مانگا تو یہی جواب ملا کہ اگر اس کے بعد کسی نے انکار کیا تو ایسا عذاب ملے گا جس کی نظیر نہ ہوگی۔طالب کا ادب پس طالب کا ادب یہی ہے کہ وہ زیادہ سوال نہ کرے اور نشان طلب کرنے پر زور نہ دے۔جو اس آداب کے طریق کو ملحوظ رکھتے ہیں خدا ان کو کبھی بے نشان نہیں چھوڑتا اور ان کو یقین سے بھر دیتا ہے۔صحابہ کی حالت کو دیکھو کہ انہوں نے نشان نہیں مانگے مگر کیا خد انے ان کو بے نشان چھوڑا؟ ہرگز نہیں۔تکالیف پر تکالیف اٹھائیں۔جانیں دیں۔اعداء نے عورتوں تک کو خطرناک تکلیفوں سے ہلاک کیا مگر نصرت ہنوز نمودار نہ ہوئی۔آخر خدا کے وعدہ کی گھڑی آگئی اور ان کو کامیاب کر دیا اور دشمنوں کو ہلاک کیا۔یہ سچی بات ہے کہ خدا صبر کرنے