ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 19

پھر کیا کوئی ایسا مفتری ہوسکتا ہے جو برابر پچیس برس سے خدا پر افترا کر رہا ہو اور نہ تھکا ہو اور خد اکو بھی اس کے لئے غیرت نہ آوے۔بلکہ اس کی تائید میں نشانات ظاہر کرتا رہے۔یہ عجیب بات ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ ہمیشہ صادقوں ہی کی نصرت اور تائید کرتا ہے۔دیکھو! یہ جو پیشگوئی ہے کہ میری عمر ۸۰ برس کے قریب ہوگی کیا کوئی مفتری اس قسم کی پیشگوئی کرسکتا ہے اور خصوصاً اس پر تیس برس گذر بھی گئے ہوں اور ایسا ہی اس وقت جب کوئی نہ جانتا تھا اور نہ یہاں آتا تھا یہ کہا یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍاور یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ کیا یہ مفتری کرسکتا ہے کہ ایسا کہے اور پھر خدا بھی ایسے مفتری کی پروا نہ کرے بلکہ اس کی پیشگوئی پوری کرنے کو دور دراز سے لوگ بھی اس کے پاس آتے رہیں اور ہر قسم کے تحائف اور نقد بھی آنے لگیں۔اگر یہ بات ہو کہ مفتری کے ساتھ بھی ایسے معاملات ہوتے ہیں تو پھر نبوت سے ہی امان اٹھ جاوے۔یہی نشانات ہیں جو ہماری جماعت کی محبت اور اخلاص میں ترقی کا باعث ہو رہے ہیں۔مفتری اور صادق کو تو اس کے منہ ہی سے دیکھ کر پہچان سکتے ہیں۔فرمایا۔سچائی کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ صادق کی محبت سعید الفطرت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔احمق کو یہ راہ نہیں ملتی کہ نور کا حصہ لے۔وہ ہر بات میں بدگمانی ہی سے کام لیتا ہے۔فرمایا۔ہم کو تکلّف اور تصنّع کی حاجت نہیں۔خواہ کوئی ہماری و ضع سے راضی ہو یا ناخوش۔ہمارا اپنا کوئی کام نہیں ہے۔خدا کا اپنا کام ہے اور وہ خود کر رہا ہے۔فرمایا۔جب انسان خدا کو چھوڑ تا ہے تو پھر وہ مکائد پر بھروسا کرتا ہے۔اپنی سچائی پر بصیرت فرمایا۔اﷲ تعالیٰ ہم کو محجوب ہونے کی حالت میں نہ چھوڑے گا۔وہ سب پر اتمام حجت کر دے گا۔یاد رکھو سماوی اور ارضی آدمیوں میں فرق ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے آتے ہیں۔وہ خود ان کی عزّت کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی سچائی کو روشن کرکے دکھاتا ہے اور جو اس کی طرف سے نہیں آتے اور مفتری ہوتے ہیں وہ آخر ذلیل ہو کر