ملفوظات (جلد 4) — Page 271
ہیں۔بیوی ہے، بچے ہیں اور اور شتہ دار ہیں۔مگر تاہم جو چند روز بھی ہمارے پاس رہتا ہے اس کے جدا ہونے سے ہماری طبیعت کو صدمہ ضرور ہوتا ہے ہم بچے تھے اب بڑھاپے تک پہنچ گئے ہیں ہم نے تجر بہ کرکے دیکھا ہے کہ انسان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بجز اس کے کہ انسان خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرلے۔دعا اور توکّل ساری عقد ہ کشا ئیاں دعا سے ہو جاتی ہیں۔ہمارے ہاتھ میں بھی اگر کسی کی خیر خواہی ہے تو کیا ہے۔صرف ایک دعا کا آلہ ہی ہے جو خدا نے ہمیں دیا ہے کیا دوست کے لیے اور کیا دشمن کے لیے ہم سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ نہیں کرسکتے۔ہمارے بس میں ایک ذرّہ بھر بھی نہیں ہے۔مگر جو خدا ہمیں اپنے فضل سے عطا کر دے۔انسان کو مشکلات کے وقت اگرچہ اضطراب تو ہوتا ہے مگر چاہیے کہ توکل کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ دے۔آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بدر کے موقع پر سخت اضطراب ہوا تھا۔۱ چنانچہ عرض کرتے تھےکہ یَارَبِّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَ بَدًا۔مگر آپؐکا اضطراب فقط بشری تقاضا سے تھا کیونکہ دوسری طرف توکل کو آپ نے ہرگز ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا آسمان کی طرف نظر تھی اور یقین تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔یاس کو قریب نہیں آنے دیا تھا ایسے اضطرابوں کا آنا تو انسانی اخلاق اور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہیے کہ یاس کو پاس نہ آنے دے کیونکہ یاس تو کفار کی صفت ہے۔انسان کو طرح طرح البدر میں ہے۔خدا کے بندے مایوس اور ضائع نہیں ہوتے اگرچہ انسان کو بشریت کے تقاضا سے اضطراب ہوتا ہے مگر وہ خاصہ بشریت ہے اور سب انبیاء بھی اس میں شریک ہیں جیسے کہ جنگ بدر میںآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواضطراب ہواتھا۔عام لوگوں میں اور انبیاؤں میں یہ فرق ہے کہ عام لوگوں کی طرح انبیاؤں کے اضطراب میں یاس کبھی نہیں ہوتی۔ان کواس اَمر پر پورا یقین ہوتا ہے کہ خدا ضائع کبھی نہ کرے گا۔میرا یہ حال ہے کہ اگر مجھے جلتی آگ میں بھی ڈالا جاوے توبھی یہی خیال ہوتا ہے کہ ضائع نہ ہوں گا۔اضطراب تو ہوگا کہ آگ ہے اس سے انسان جل جاتا ہے مگرامید ہوتی ہے کہ ابھی آواز آوے گی يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ لیکن دوسرے لوگوں کے اضطراب میں یاس ہوتا ہے۔خدا پر ان کوتوقع نہیں ہوتی اور یہ کُفر ہے۔،، (البدر جلد ۲نمبر ۸ مورخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۱ )