ملفوظات (جلد 4) — Page 270
بناتے ہیں خصوصاً سکھ لوگ۔مگر ہماری شریعت کیا پاک ہے کہ جس جگہ سے کسی قسم کی بدی کا احتمال بھی تھا اس سے بھی منع کر دیا۔بھلا یہ باتیں کسی اور میں کہاں پائی جاتی ہیں۔۱ ۲ ۵؍مارچ ۱۹۰۳ء (دربا رشا م ) حضرت اقدس نے فا رسی میں فرمایا لہٰذاس کا تر جمہ لکھا جاتا ہے۔دوستوں کی جدائی پر غمگین ہونا فرمایا۔خدا تعالیٰ۳ نے یہ بات میرے دل میں ڈالی ہے اور میری فطرت میں رکھ دی ہے کہ جب کوئی دوست مجھ سے الگ ہونے لگتا ہے مجھے سخت قلق اور درد محسوس ہوتا ہے میں خیال کرتا ہوں کہ خدا جانے زندگی کا بھر وسہ نہیں۔پھر ملاقات نصیب ہو گی یا نہیں۔پھر میرے دل میں خیال آجاتا ہے کہ دوسروں کے بھی تو حقوق ۱ البد ر میں ہے۔ایک صاحب نے عرض کی کہ خواب میں میں نے اپنی مونچھوں کو کترے ہوئے دیکھا ہے۔فرمایا کہ لبوں کے کترنے سے مراد انکساری اور تواضع ہے زیادہ لب رکھنا تکبر کی علامت ہے جیسے انگریز اور سکھ وغیرہ رکھتے ہیں پیغمبر خدا نے اسی لیے اس سے منع کیا ہے کہ تکبر نہ رہے اسلام تو تواضع سکھاتا ہے جو خواب میں دیکھے تو اس میں فر وتنی بڑھ جاوے گی۔(البدر جلد ۲ نمبر ۸ مو رخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ءصفحہ۶۰ ) ۲ الحکم جلد ۷نمبر ۱۰ مورخہ۱۷ ما رچ ۱۹۰۳ءصفحہ۲ ۳ (البدرسے) ’’ ایک خادم نے حضرت اقدس سے رخصت طلب کی۔ان کاوطن یہاں سے دور دراز تھا اور ایک عرصہ سے آکر حضرت کے قدموں میں موجود تھے ان کے رخصت طلب کرنے پر حضرت اقدس نے فر مایا کہ انسان کی فطرت میں یہ بات ہوتی ہے اورمیری فطرت میںبھی ہے کہ جب کوئی دوست جُدا ہونے لگتا ہے تو دل میرا غمگین ہوتا ہے کیونکہ خدا جانے پھرملاقات ہویانہ ہو اس عالم کی یہی وضع پڑی ہے خواہ کوئی ایک سوسال زندہ رہے آخر پھر جُدا ئی ہے مگر مجھے یہ اَمرپسند ہے کہ عیدالاضحی نزدیک ہے وہ کرکے آپ جاویں جب تک سفر کی تیاری کرتے رہیں۔باقی مشکلات کا خدا حافظ ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۸ مورخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۰)