ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 269

اٹھاتا ہے، خدا سے نور اترتا ہے۔اپنے فرشتوں کو اس کی خدمت کے واسطے مامور فرماتا ہے۔جو اس کے واسطے کچھ کھوتا ہے اس کو اس سے ہزار چند دیا جاتا ہے۔دیکھو صحابہؓ میں سے سب سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا تھا اور کمبل پو ش بن پھرا تھا مگر جب خدا نے اسے دیا تو کیا دیا۔دیکھ لو کیسی مناسبت ہے کہ اس نے چونکہ سب صحابہؓ سے اوّل خرچ کیا تھا اسے سب سے پہلے خلافت کا تخت عطا کیا گیا۔غرض خدا کوئی بخیل نہیں اور نہ اس کے فیض خاص خاص ہیں بلکہ ہر ایک جو صدقِ دل سے طا لب بنتا ہے اسے عزّت دی جاتی ہے۔یہ ہمارے دشمن تو اللہ تعالیٰ سے جنگ کرتے ہیں بھلا ان سے آسمانی باتیں اور تائیدات روکی جاسکتی ہیں۔ہرگز نہیں۔پرنالہ کے پانی کو تو کوئی روک بھی سکتا ہے مگر جو آسمان سے موسلادھار بارش ہونے لگ جاوے اس کو کون رو ک سکے گا اور اس کے آگے کون سا بند لگاویں گے؟ ہماراتو سارا کا روبار ہی آسمانی ہے پھر بھلا کسی کی کیا مجال کہ اس میں کسی قسم کا حرج یا خلل واقع کرسکے۔۱ لمبی مو نچھوں کی تعبیر ایک خوا ب کی تعبیر میں فرمایا کہ اصل میں زیادہ لمبی لبیں( مونچھیں ) رکھنا بھی تکبر اور نخوت کو بڑھاتا ہے اسی واسطے شریعت اسلام نے فرمایا ہے کہ مونچھیں کٹواؤ اور داڑھی کو بڑھاؤ۔یہ یہوداور عیسائی اور ہندوؤں کا کام ہے کہ وہ اکثرتکبرسے مو نچھوں کو بڑھاتے اور تاؤ دے دے کر ایک متکبرانہ وضع البدر میں بعض مزید باتوں کا ذکر ہے وہاں لکھا ہے کہ حضور نے فرمایا۔’’ تجربہ ہے کہ جب ہندوؤں میں سے مسلمان ہوتے ہیں تو وہ متقی ہوتے ہیں جیسے مولوی عبید اللہ صاحب۔سناتن دہرم والے زوائد کو چھوڑ کر وہ تمام باتیں مانتے ہیں جن کے ہم قائل ہیں۔خدا کو خالق مانتے ہیں۔فرشتوں پر بھی ان کا ایمان ہے۔نیو گ کے سخت مخالف ہیں۔جو لوگ اخلاص سے اسلام میں داخل ہوتے ہیں وہ کوئی شرط نہیں باندھتے جو شرطیں پیش کرکے اسلام لا نا چاہتا ہے وہ ضرور کھوٹ رکھتا ہے۔آسمان سے بارش ہو یا ہوا چلے تو کوئی روک نہیں سکتا لیکن پرنالہ وغیرہ کا پانی روکا جا سکتا ہے۔‘‘ ( البدر جلد ۲ نمبر ۸ مو رخہ ۱۳ ؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۰ )