ملفوظات (جلد 4) — Page 266
شریعت تو اسی بات کا نام ہے کہ جو کچھ آنحضرتؐ نے دیا ہے اسے لے لے اور جس بات سے منع کیا ہے اس سے ہٹے۔اب اس وقت قبروں کا طواف کرتے ہیں ان کو مسجد بنایا ہوا ہے۔عرس وغیرہ ایسے جلسے نہ منہاجِ نبوت ہے نہ طریق سُنّت ہے۔اگر منع کرو تو غیظ وغضب میں آتے ہیں اور دشمن بن جاتے ہیں۔چونکہ یہ آخری زمانہ ہے ایسا ہی ہونا چاہیے تھا لیکن اسی زمانہ کے فسادوں کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس زمانہ میں اکیلا رہنا اور اکیلا مَر جانا یا درختوں سے پنجہ مار کر مَر جانا ایسی صحبتوں سے اچھا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ سب چیزیں پوری ہو رہی ہیں انسان دوسرے کے سمجھائے کچھ نہیں سمجھ سکتا۔دل میں کسی بات کا بٹھا دینا یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ خدا جب کسی سے نیکی کرتا ہے تو اسے سمجھ عطا کرتا ہے۔اس کے دل میں فراست پیداہو جاتی ہے اور دل ہی معیار ہوتا ہے مگر محجوب دل کام نہیں آتا۔یہ کام ہمیشہ پاک دل سے نکلتا ہے۔مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنیٓ اسـرآءیل:۷۳) ان باتوں کے لئے دعا کرنی چاہیے۔نیک اعمال کے لئے صحبت ِصادقین کی ضرورت ہے خد اکے فضل کے سوا تبدیلی نہیں ہوتی اعمالِ نیک کے واسطے صحبت ِصادقین کا نصیب ہونا بہت ضروری ہے۔یہ خدا کی سنّت ہے ورنہ اگر چاہتا تو آسمان سے قرآن شریف یو نہی بھیج دیتا اور کوئی رسول نہ آتا۔مگر انسان کو عمل در آمد کے لئے نمونہ کی ضرورت ہے۔پس اگر وہ نمونہ نہ بھیجتا رہتا تو حق مشتبہ ہو جاتا۔مخالفت کی وجہ اب اس وقت علماء مخالف ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے؟ صرف یہی کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ یہ تمہارے عقیدہ وغیرہ سب خلافِ اسلام ہیں۔اس میں میرا کیا گناہ ہے؟ مجھے تو خدا نے مامور کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ان غلطیوں کو نکال دیا جاوے اور منہاجِ نبوت کو قائم کیا جاوے۔اب یہ لوگ میرے مقابلہ پر قصّہ کہانیاں پیش کرتے ہیں۔حالانکہ مجھے خود ہر ایک اَمر بذریعہ وحی والہام کے بتلایا جاتا ہے۔ان کے کہنے سے میں اسے