ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 265

سے عورت بننے کی کیا ضرورت پڑی؟ ہمارا رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کتاب قرآن کے سوا اور طریق سُنّت کے سوا نہیں۔کس شَے نے ان کو جرأت دی ہے کہ اپنی طرف سے وہ ایسی باتیں گھڑ لیں۔بجائے قرآن کے کا فیاں پڑھتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دل قرآن سے کھٹا ہوا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میری کتاب پر چلنے والا ہو وہ ظلمت سے نور کی طرف آوے گا اور کتاب پر اگر نہیں چلتا تو شیطان اس کے ساتھ ہوگا۔بندگانِ خدا کی علامت مگر جو خدا کے بندے ہوتے ہیں ان میں خوشبو اور برکت ہوتی ہے فر یب اور مکر سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔جیسے آفتاب اسے چمکتا ہوا نظر آتا ہے ایسے ہی دور سے ان کی چمک دکھائی دیتی ہے اور دنیا میں اصل چمک انہی کی ہے۔یہ آفتاب اور قمر وغیرہ تو صرف نمونہ ہیں۔ان کی چمک دائمی نہیں ہے کیونکہ یہ غروب ہو جاتے ہیں لیکن وہ غروب نہیں ہوتے۔جس کو خدا اور رسول کی محبت کا شوق ہے اور ان کے خلاف کو پسند نہیں کرتا اور عفونت اور بد بو کو محسوس کرنے کا اس میں مادہ ہو وہ فوراً آ جائے گا کہ یہ طریق اسلام سے بہت بعید ہے۔مثلِ یہود کے خدا نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔بلعم کی طرح اب مکروفریب کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔صفائی والا انسان جلد دیکھ لیتا ہے کہ یہ جسم اس حقیقی رُوح سے خالی ہے۔سجادہ نشینوں کے پَیرو سو چیں انسان توجہ کرے تو اسے پتا لگتا ہے کہ جو لوگ صُمٌّۢ بُكْمٌ ہو کر سجادہ نشینوں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور عرسوں وغیرہ میں شریک ہو جاتے ہیں ان کو یہ خیال نہیں آتا کہ وہ کون سی روشنی ہے جو کہ خانہ کعبہ سے شروع ہوئی تھی اور تمام دنیا میں پھیلی تھی اور انہوں نے اس میں سے کس قدر حصہ لیا ہے۔ان کو ہرگز وہ نور نہیں ملتا جو آنحضرت مکہ سے لائے اور اس سے کُل دنیا کو فتح کیا۔آج اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیداہوں تو ان لوگوں کو جو اُمت کا دعویٰ کرتے ہیں کبھی شناخت بھی نہ کرسکیں۔کون سا طریقہ آپ کا ان لوگوں نے رکھا ہے۔