ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 264

اعتبار تھا مگر اب تو جب سے یہ سلسلہ طاعون کا شروع ہوا ہے کوئی اعتبار مطلق نہیں رہا۔آپ نفس پر جبر کرکے ٹھہریئے اور جو شبہ وخیال پیداہو وہ سناتے رہیے۔اَن پڑھ اور اُمّی لوگ جو آتے ہیں ان کی باتیں اور شبہات کا سننا بھی ہمارا فرض ہے۔اس لیے آپ بھی اپنے شبہات ضرور سنایئے۔یہ ہم نہیں کہتے کہ ہدایت ہو یا نہ ہو ہدایت تو اَمرِرَبی ہے۔کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔مسلمان کون ہے؟ یہ بات سمجھنے والی ہے کہ ہر ایک مسلمان کیوں مسلمان کہلاتا ہے؟ مسلمان وہی ہے جو کہتا ہے کہ اسلام برحق ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں قرآن کتابِ آسمانی ہے۔اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں ان سے باہر نہ جائوں گا۔نہ عقیدہ میں نہ عبادت میں نہ عملدرآمد میں۔میری ہر ایک بات اور عمل اس کے اندراندر ہی ہوگا۔گدی نشین اور بدعات اب اس کے مقابل پر آپ انصاف سے دیکھیں کہ آج کل گدی والے اس ہدایت کے موافق کیا کچھ کرتے ہیں۔اگر وہ خدا کی کتاب پر عمل نہیں کرتے توقیامت کو اس کا جواب کیا ہوگا کہ تم نے میری کتاب پر عمل نہ کیا۔اس وقت طوافِ قبر، کنجریوں کے جلسے اور مختلف طریقہ ذکر کے جن میں سے ایک ارّہ کا ذکر بھی ہے ہوتے ہیں۔لیکن ہمارا سوال ہے کہ کیا خدا بھول گیا تھا کہ اس نے یہ تمام باتیں کتاب میں نہ لکھ دیں اور نہ رسول کو بتلائیں۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت جانتا ہے اسے ماننا پڑے گا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کے باہر نہ جانا چاہیے۔کتا ب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہو رہاہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النّار ہے۔اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجُز اس قانون کے جو مقرر ہے اِدھر اُدھر بالکل نہ جاوے۔کسی کا کیا حق ہے کہ باربار ایک شریعت بناوے۔بعض پیر زادے چوڑیاں پہنتے ہیں۔مہندی لگاتے ہیں۔لال کپڑے ہمیشہ رکھتے ہیں۔سَدا سہاگن ان کا نام ہوتا ہے۔اب ان سے کوئی پوچھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو مَرد تھے۔اس کو مَرد