ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 262

دی کہ سارا جہان اس کا شہد کھاتا ہے یہ صرف اس کی طرف جھکنے کی وجہ سے ہے۔پس انسان کو چاہیے کہ ہروقت اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ:۵ ) کی دعا پر کار بند رہے اور اسی سے توفیق طلب کرے۔ایساکرنے سے انسان خدا کی تجلیات کا مظہر بھی بن سکتا ہے۔چاند جب آفتاب کے مقابل میں ہوتا ہے تو اسے نور ملتا ہے مگر جوں جوں اس سے کنارہ کشی کرتا ہے توں توں اندھیرا ہوتا جاتا ہے۔یہی حال ہے انسان کا جب تک اس کے دروازہ پر گرارہے اور اپنے آپ کو اس کا محتاج خیال کرتا رہے تب تک اللہ تعالیٰ اسے اُٹھاتا اور نوازتاہے ورنہ جب وہ اپنی قوتِ بازو پر بھروسا کرتا ہے تو وہ ذلیل کیا جاتا ہے۔۱ صادق کی معیت كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ: ۱۱۹)بھی اسی واسطے فرمایا گیا ہے۔سادھ سنگت بھی ایک ضرب المثل ہے۔پس یہ ضروری بات ہے کہ انسان باوجود علم کے اور باوجود قوت و شوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا رہے تا اس پر عمدہ رنگت آوے۔سفید کپڑا اچھا رنگا جاتا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کاپہلے سے کوئی میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا۔صادق کی معیت۲ میں انسان کی عقدہ کشائی ہوتی ہے اور اسے البدر سے۔’’ عیسائیوں کی عقل کیسی تیز ہے کیسی کیسی صنعتیں ایجاد کی ہیں گویا بالکل دنیا کو نیا کردیا ہے۔ہر ایک پُرانی شَے کی جگہ ایک نئی شَے موجود ہے مگر چونکہ دینی معاملات میں خدا سے مدد نہ مانگی گھمنڈ اورفخر کیا اس لیے عقل آخر کار ماری گئی کہ کوّے کی طرح نجاست پر دانت مارا۔سب پڑھ پڑھا کرڈبو دیا۔اس لیے اپنی رائے اورفیصلہ پر بھروسا نہ کرنا چاہیے۔ہر ایک نبی میں یہ کمال تھا کہ ہر وقت خدا پر بھروسا رکھتے۔اپنی عقل اور طاقت پران کو ذرّہ بھر اعتبار نہ تھا۔چونکہ وہ ہر وقت خدا سے مدد مانگتے ہیں۔اسی لیے ہروقت اُن کو خدا سے مدد ملتی ہے خدا کے بغیر کوئی طاقت اور مدد نہیں ملتی اگر عقل پر گھمنڈ کرے گا تو شہد کی مکھی کی جگہ نجاست کی مکھی کی طرح ہوگا۔لیکن اگر خدا سے مدد چاہے گا تو ایک نور اسے ملے گا کہ جس سے مدد پاکر وہ بڑی بڑی تجلّیات الٰہی کااگر مظہر بن جاوے توسچ ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۸مورخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ءصفحہ۵۹) ۲ البدرسے۔’’صادقوں کی صحبت میں رہنا بہت ضروری ہے خواہ انسان کیسا علم رکھتا ہو۔طاقت رکھتا ہو لیکن صحبت میں رہنے سے جواس کے شبہات دور ہوتے ہیںاور اسے علم حا صل ہوتا ہے وہ دوسرے طور سے حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (البدر جلد ۲نمبر ۸مورخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۰۳ءصفحہ ۵۹)